غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب اسرائیل کی فوج کی جانب سے غزہ میں کمزور سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں رفح، مشرقی غزہ، البريج کیمپ اور خان یونس پر فضائی، بربی اور بحری حملوں کے ذریعے رہائشی عمارتوں اور بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ شمالی غزہ پٹی میں واقع بیت لاہیہ کے اسکوائر کے قریب غاصب اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے 27 سالہ خاتون بسمہ عرام بنات شدید زخمی ہوئیں جو بعد ازاں جام شہادت نوش کر گئیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے رات کے اوقات میں غزہ کی پٹی کے مشرقی حصوں میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں کیں اور پناہ گزینوں کے مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ رمضان المبارک کے پانچویں روز ان سفاکانہ کارروائیوں میں مزید تیزی آگئی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غاصب اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح کے مشرقی علاقوں پر وحشیانہ بمباری کی۔
اسی ذریعے کے مطابق، غاصب اسرائیلی فوج کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں کی طرف شدید فائرنگ کی، جبکہ ساتھ ہی قابض بحریہ نے شہر کے ساحل کی جانب گولہ باری کی۔
عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ شہر غزہ میں بھی قابض جنگی طیاروں نے مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے جس کے ساتھ ہی ان علاقوں پر وقفے وقفے سے توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
یہ سفاکانہ تصادم ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطینیوں کی انسانی تکالیف میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، رفح گزرگاہ دونوں طرف سے انتہائی محدود پیمانے پر فعال ہے اور غاصب اسرائیلی فوج سیز فائر معاہدے کی ان شقوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے جن کا تعلق انسانی امداد، تجارتی ٹرکوں اور ایندھن کی فراہمی اور متاثرہ ہسپتالوں سے زخمیوں و مریضوں کو علاج کے لیے باہر منتقل کرنے سے تھا۔
فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا کہ ابھی تک غزہ پٹی میں کوئی ایک بھی موبائل ہوم (کرفان) داخل نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غاصب اسرائیلی فوج غزہ کے تقریبا 60 فیصد حصے پر قابض ہے اور نام نہاد "یلو لائن” کو رہائشی علاقوں کی طرف پھیلا رہی ہے، جس سے شہریوں کے لیے دستیاب جگہ خصوصاً مشرقی اور شمالی علاقوں میں سکڑتی جا رہی ہے۔
غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گیارہ اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 612 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,640 تک پہنچ گئی ہے اور ملبے سے نکالے گئے شہداء کی تعداد 726 ہے۔