غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی دفتر کے رکن سہیل ہندی نے قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے فلسطینیوں کے ہتھیار چھیننے کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے مزاحمتی ہتھیار براہِ راست قابض اسرائیل کی موجودگی سے جڑے ہیں اور یہ فلسطینی قوم کا یکجہتی فیصلہ ہیں جو کسی بھی حالت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ہندی کے یہ بیانات نیتن یاھو کی ایک پریس کانفرنس کے بعد سامنے آئے، جس میں قابض اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ موجودہ مرحلے میں ان کی توجہ حماس کے پورے غزہ میں ہتھیار چھیننے پر مرکوز ہے اور اس کام کو "کسی بھی طریقے سے” مکمل کریں گے، چاہے اس کے لیے طاقت کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔
ہندی نے الجزیرہ لائیوکے ساتھ گفتگو میں کہا کہ انہوں نے نیتن یاھو کے خطاب کا کچھ حصہ دیکھا ۔ اس کی باتیں "گمراہ کن کہانی” کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا مقصد قابض اسرائیلی فوج کو ایک "اخلاقی اور انسانی” فوج کے طور پر پیش کرنا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہتھیاروں کا مسئلہ قابض اسرائیل کی حقیقت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ "ہتھیار ایک قومی مسئلہ ہیں اور اس بارے میں فیصلہ فلسطینی دھڑے اور عوام نے کیا ہے۔ قابض اسرائیل کی موجودگی مزاحمت کے تسلسل کو ضروری بناتی ہے”۔
ہندی نے مزید کہا کہ اگر ہتھیار باقی ہیں تو وہ دفاعی نوعیت کے ہیں اور "یہ ہتھیار حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہیں، تقریباً ہر گھر میں موجود ہیں، خاص طور پر غزہ میں قابض اسرائیل کے بنائے ہوئے مجرمانہ گروہوں کی مسلسل جارحیت کے تناظر میں ہتھیار رکھنا ضروری ہیں”۔
پختہ عزم
محمد ہندی نے کہا کہ حماس ثالث ممالک کے ساتھ جو معاہدہ طے کیا اس پر مکمل عمل درآمد کیا۔ قابض اسرائیلی فوجی ران گویلی کی لاش کی حوالگی اور دستیاب معلومات کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت "لاشیں رکھنے پر فخر نہیں کرتی” اور یاد دہانی کرائی کہ اب تک 20 زندہ فوجیوں و افسران کو حوالے کیا جا چکا ہے، نیز 28 لاشیں بھی تاکہ اس معاملے کو آغاز سے ہی ختم کیا جا سکے۔
ہندی نے قابض اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی شقوں پر عمل نہیں کر رہا، قتل و غارت جاری رکھے ہوئے ہے اور بارڈر کراسنگز بند کر دیے ہیں، انسانی پروٹوکول کی خلاف ورزی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد سے 503 شہداء اور 325 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ قابض اسرائیل ابھی بھی متفقہ اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ہندی نے زور دیا کہ مزاحمت کی پابندی کا مطلب کمزوری نہیں ہے۔ فلسطینی عوام "سفید پرچم نہیں اٹھائیں گے”۔ انہوں نے کہاکہ "ہم ایک شریف اور باعزت قوم ہیں، ہم شکست کو نہیں مانتے اور اس مجرم دشمن کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے”۔