• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 19 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

جنگ بندی کے 100 دن، اسرائیل کی خلاف ورزیوں سے غزہ میں نسل کشی جاری

قابض فوج نے جنگ بندی کے دوران بھی مسلسل حملے کیے، شہری شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔

پیر 19-01-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
جنگ بندی کے 100 دن، اسرائیل کی خلاف ورزیوں سے غزہ میں نسل کشی جاری
0
SHARES
1
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی 100 دن کے دوران قابض اسرائیل کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری رہیں جو اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کا جرم بدستور جاری ہے اگرچہ اس بار مختلف ہتھکنڈوں اور نسبتاً کم شدت والے طریقہ کار کے ذریعے۔

مرکز نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی میدانی نگرانی کے مطابق یہ معاہدہ شہریوں کے تحفظ میں ناکام رہا بلکہ ایک رسمی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا جس کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کے قتل، براہ راست نشانہ بنانے، بھوک مسلط کرنے اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنے جیسے جرائم جاری رکھے گئے۔

بیان میں بتایا گیا کہ سیز فائر کے 99 دن کے دوران قابض اسرائیل نے 479 فلسطینیوں کو شہید کیا جبکہ 1280 افراد کو زخمی کیا گیا جس کا مطلب یومیہ اوسطاً تقریباً 5 شہداء اور 13 زخمی بنتا ہے۔

مرکز نے نشاندہی کی کہ شہداء میں 91.9 فیصد شہری تھے جبکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شرح مجموعی متاثرین میں 51.6 فیصد رہی۔

اسی طرح زخمی ہونے والوں میں شہریوں کا تناسب 99.2 فیصد تک پہنچ گیا اور یہ تمام افراد ان علاقوں میں نشانہ بنے جنہیں بظاہر تحفظ کے دائرے میں ہونا چاہیے تھا۔

قتل کا بار بار دہرایا جانے والا انداز

مرکز نے زور دے کر کہا کہ یہ ہولناک اعداد و شمار کسی انفرادی یا الگ تھلگ واقعات کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ایک منظم اور بار بار دہرایا جانے والا قتل کا انداز ہیں جو سب سے زیادہ کمزور طبقات کو نشانہ بناتا ہے اور اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کی کوئی نیت موجود نہیں۔

مرکز نے مزید بتایا کہ 99 دن کے دوران 1285 میدانی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جن کی یومیہ اوسط 13 بنتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں فضائی اور توپ خانے کی بمباری، فائرنگ، فوجی گاڑیوں کی پیش قدمی، گھروں کی مسماری اور گرفتاریاں شامل ہیں۔

مرکز نے خبردار کیا کہ ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جس میں خلاف ورزی نہ ہوئی ہو اور اس حقیقت نے سیز فائر کی روح کو مکمل طور پر پامال کر دیا ہے اور اسے جارحیت اور نسل کشی کے انتظامی آلے میں بدل دیا ہے نہ کہ ان کے خاتمے کے طریقہ کار میں۔

امدادی سامان اور بھوک کا ہتھیار

غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل نے معاہدے کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل کی پابندی نہیں کی۔ بیان کے مطابق عملی طور پر غزہ میں یومیہ اوسطاً صرف 260 امدادی ٹرک داخل ہوئے جو متفقہ تعداد کا محض 43.3 فیصد بنتا ہے۔ ایندھن کے ٹرک تو طے شدہ ضرورت کے مقابلے میں صرف 12.9 فیصد تک محدود رہے۔

مرکز نے کہا کہ اس شدید قلت نے براہ راست 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔ صحت کے مراکز مفلوج ہو گئے، پانی کی فراہمی کمزور پڑ گئی اور بھوک کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ یہ سب ایک منظم اسرائیلی پالیسی کا نتیجہ ہے جس میں امداد کو دباؤ اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مرکز نے زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض خلاف ورزیاں نہیں بلکہ ایسے اقدامات ہیں جو مجموعی طور پر فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے جرم کا تسلسل ہیں۔ یہ سب ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی معاشرے کو نڈھال کرنا اور اسے بتدریج انہدام کی طرف دھکیلنا ہے۔

غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں نہ صرف سیز فائر معاہدے کی صریح پامالی ہیں بلکہ جنیوا کنونشنز کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے وسیع تر تناظر کا حصہ ہیں۔

مرکز نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کی خاموشی اور مجرموں کا مسلسل احتساب نہ ہونا قابض اسرائیل کو ان جرائم کے ارتکاب اور ان کے اعادے کا حوصلہ فراہم کر رہا ہے۔ مرکز نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدام کرے تاکہ حقیقی سیز فائر کو یقینی بنایا جا سکے، بلا امتیاز شہریوں کا تحفظ ہو، بغیر کسی پابندی کے امدادی سامان کی ترسیل ممکن بنائی جائے اور اسرائیلی ذمہ داران اور ان کے شراکت داروں کو ان جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

Tags: #GenocideCeasefireConflictgazaGazaNewsHumanRightsisraelMiddleEastpalestineViolation
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.