(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی تباہ حال گلیوں، ملبے اور دھوئیں کے درمیان جہاں انسانی المیہ اپنی تاریخ کی بدترین شکل اختیار کرچکا ہے، وہاں ایک نیا عنوان سامنے لایا جا رہا ہے جسے ’’امن کونسل‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ فلسطینی منظرنامے میں یہ تجویز نہایت متنازع اور تضادات سے بھرپور سمجھی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر اس اقدام کو غزہ پر مسلط جنگ کے بعد کے مرحلے کی ترتیب کا دروازہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر فلسطینی عوام کے لیے یہ سوالات، شکوک اور اندیشوں کا طوفان لے کر آیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو محاصرے، جارحیت، سفاکیت، سماجی تھکن، سیاسی جمود، قومی تقسیم اور قیادت کے خلا کا شکار ہے، اس کے لیے اس نام نہاد منصوبے کی حقیقت شدید تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
کیا یہ ’’امن کونسل‘‘ واقعی کسی سیاسی اور انتظامی بحالی کا راستہ بن سکتی ہے جو اس ہولناک تباہی کا خاتمہ کرے اور فلسطینی قومی کاز کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلائے؟ یا پھر یہ محض بحران کے انتظام کا ایک نیا فریم ہے، جو عالمی اور امریکی خواہشات اور غزہ کے عوام کی حقیقی ضروریات کے درمیان گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے؟۔
ان تمام سوالات کے بیچ بنیادی سوال بدستور اپنی جگہ قائم ہے: کیا یہ کونسل اس نہایت پیچیدہ مرحلے میں کامیابی کی صلاحیت رکھتی ہے یا پھر یہ وجود میں آنے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار ہوچکی ہے؟
یہ امن منصوبہ نہیں
سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہانی المصری کے مطابق آج غزہ کے لیے جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، اسے کسی صورت امن منصوبہ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ قابض اسرائیلی قبضے کے انتظام کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ گفتگو دراصل قابض اسرائیل کی بالادستی کو دوام دینے کی ایک نئی کوشش ہے، جسے اس بار امریکی مرضی اور عالمی سرپرستی کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ قابض ریاست کے مکروہ چہرے کو سیاسی اور انتظامی لبادے میں چھپایا جا سکے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو میں ہانی المصری نے کہا کہ امریکی اور قابض اسرائیلی موقف کا گہرا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نام نہاد ’’جنگ کے بعد‘‘ کی باتیں کسی منصفانہ سیاسی حل کی تلاش نہیں، بلکہ عسکری اہداف میں ناکامی کے بعد آگے کی طرف بھاگنے کی کوشش ہیں۔ غزہ کے انسانی المیے کو ایک ایسے دروازے میں بدلا جا رہا ہے جس کے ذریعے قابض اسرائیل کی سکیورٹی کو اولیت دیتے ہوئے نئے انتظامات مسلط کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیش کی جانے والی ’’امن کونسل‘‘ فلسطینیوں کے لیے کسی خودمختاری یا قومی اختیار کی حامل نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مقصد قابض اسرائیلی چھتری تلے آبادی کے انتظام کے لیے ایک عملی ڈھانچہ قائم کرنا ہے، جس میں نہ محاصرہ ختم ہوگا، نہ فلسطینی عوام کے جائز سیاسی حقوق تسلیم کیے جائیں گے، جن میں سب سے نمایاں حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کا قیام ہے۔
ہانی المصری کے مطابق قابض اسرائیل، واضح امریکی حمایت کے ساتھ فلسطینی منظرنامے کی از سر نو تشکیل چاہتا ہے تاکہ مکمل کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت قومی وحدت کو کمزور، فلسطینی آزادی تنظیم کو پس منظر میں دھکیلنے، اتھارٹی کو اس کے سیاسی کردار سے محروم کرنے اور غزہ کو سکیورٹی اور انسانی تجربات کی تجربہ گاہ بنائے رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس نازک موڑ پر قومی ذمہ داری یہ ہے کہ ایک متحد فلسطینی موقف اختیار کیا جائے، جو غزہ کی قربانیوں کو قابض اسرائیلی بالادستی کے تسلسل کا ذریعہ بننے سے روکے اور آزادی، وقار اور خودمختاری پر مبنی قومی منصوبے کو دوبارہ مرکز میں لائے۔
بنجمن نیتن یاھو، تصادم کا انتظام اور آگے کی طرف فرار
اسرائیلی امور کے محقق جمال زحالقہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے غزہ کے بعد کے مرحلے سے متعلق بیانات اور کسی کونسل یا انتظامی فریم ورک سے لاعلمی کے دعوے، قابض ریاست کے حکومتی اداروں میں شدید انتشار کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم ساتھ ہی یہ ایک نہایت خطرناک سیاسی سوچ کو بھی بے نقاب کرتے ہیں، جس کی بنیاد آگے کی طرف فرار اور فلسطینیوں کے لیے کسی قابل عمل حل کی عدم موجودگی پر ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو میں جمال زحالقہ نے کہا کہ قابض اسرائیل درحقیقت امن یا منصفانہ تصفیے کی تلاش میں نہیں، بلکہ وہ غزہ میں موجودہ صورت حال کو مزید مضبوط اور گہرا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی حکمت عملی تنازع کے حل کے بجائے اس کے انتظام پر مبنی ہے، تاکہ غزہ سیاسی، انسانی اور سکیورٹی لحاظ سے مسلسل تھکن اور دباؤ میں رہے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاھو کا غزہ کے انتظام کے لیے کسی کونسل کے قیام پر اعتراض اور ’’اگلے دن‘‘ کے بارے میں واضح تصور پیش کرنے سے گریز اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت کسی متحد فلسطینی شراکت دار یا مضبوط قومی اتھارٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے برعکس وہ سیاسی خلا کو ترجیح دیتی ہے تاکہ سکیورٹی اور انتظامی انتظامات اپنی مرضی سے مسلط کیے جا سکیں اور جب چاہے براہ راست مداخلت کا راستہ کھلا رہے۔
جمال زحالقہ کے مطابق اس مرحلے پر قابض اسرائیل کا امن کا بیانیہ محض عالمی اور ابلاغی استعمال کے لیے ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہی پرانی پالیسیاں دوبارہ مسلط کی جا رہی ہیں۔ محاصرہ، زمینی تقسیم، گزرگاہوں پر مکمل کنٹرول اور ایسے حقائق کی تشکیل جو غزہ کو قومی فلسطینی گہرائی سے کاٹ کر ایک دائمی بحران میں مبتلا رکھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل نہ حقیقی امن چاہتا ہے، نہ ہی اس کے پاس ’’اگلے دن‘‘ کے لیے کوئی واضح سیاسی ویژن موجود ہے۔ وہ غزہ کو ایک طویل المدتی سکیورٹی فائل کے طور پر دیکھتا ہے اور موجودہ تباہی کو ایک موقع میں بدلنا چاہتا ہے، تاکہ بالادستی برقرار رہے اور فلسطینی قضیہ مسلسل استنزاف کے دائرے میں گھومتا رہے۔
اس پورے پیچیدہ منظرنامے میں غزہ کا فلسطینی شہری خود کو ایک طرف دوبارہ جنگ اور اس کی ہولناکیوں کے خوف میں جکڑا ہوا پاتا ہے اور دوسری طرف وہ قابض اسرائیل، اس کے قبضے اور ان تمام منصوبوں کو فطری طور پر مسترد کرتا ہے جو امریکی اور مغربی حمایت سے قومی ڈھانچے کو مسمار کرنے اور کنٹرول کو دوام دینے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں حالات کس سمت جائیں گے اور غزہ اور اس کے باسیوں کا مستقبل کس رخ پر آگے بڑھے گا، یہ سوالات تاحال معلق ہیں۔ ان کے جوابات صرف وقت ہی دے گا۔