(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) صومالی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کے علاحدگی پسند ’صومالی لینڈ‘ کے غیر قانونی دورے کی شدید مذمت کی اور اسے صومالیہ کی خودمختاری اور سرزمین کی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ صومالی سرزمین میں کسی بھی سرکاری موجودگی، رابطے یا تعامل کا انجام بغیر وفاقی حکومت کی واضح اجازت اور اجازت نامے کے غیر قانونی اور باطل ہونے کے مترادف ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر یا حیثیت نہیں ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور افریقی یونین کے بنیادی قوانین کے مقاصد کے بھی خلاف ہیں۔
قابض اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر منگل کو ’صومالی لینڈ‘ پہنچے، جو اس علاقے کے علیحدگی کا رسمی اعلان ہونے کے صرف دو ہفتے بعد ہوا، جبکہ صومالی حکومت اس علاقے کو اپنی سرزمین کا حصہ مانتی ہے۔
قابض اسرائیل نے دسمبر سنہ 2025ء میں اس علیحدہ علاقے کو بطور خود مختار ریاست رسمی طور پر تسلیم کیا، جس پر افریقی یونین، مصر اور یورپی یونین کی طرف سے شدید تنقید کی گئی اور ان سب نے صومالیہ کی سرزمین کے اتحاد اور خودمختاری پر زور دیا، جو کئی سالوں سے جنگ و انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
گذشتہ ہفتے صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ ’صومالی لینڈ‘ نے قابض اسرائیل کے سامنے تین شرائط رکھی تھیں: فلسطینیوں کو اس علاقے میں دوبارہ آباد کرنا، خلیج عدن میں فوجی اڈہ قائم کرنا اور اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں کے تحت تعلقات کو معمول پر لانا ۔
اس کے جواب میں ’صومالی لینڈ‘ نے گذشتہ جمعرات کو پہلی دو شرائط کی تردید کی اور کہا کہ دونوں کے درمیان معاہدہ صرف "سفارتی نوعیت” کا ہے۔
’صومالی لینڈ‘، جو کبھی برطانوی سرپرستی میں تھا، کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر بطور خود مختار ریاست تسلیم کیے جانے کی کوشش کر رہا ہے،اس نے مختلف غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے دو طرفہ معاہدے کیے ہیں۔
یہ علیحدہ علاقہ صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع ہے، بحرِ احمر کے اہم خلیج عدن کے کنارے پھیلا ہوا ہے اور اس کی سرحدیں ایتھوپیا اور جیبوتی کے ساتھ ملتی ہیں، جس سے اس کا اسٹریٹجک اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔