(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ایک فوجی غزہ کے جنوبی علاقے میں ایک "آپریشن حادثہ” کے دوران شدید زخمی ہو گیا، تاہم اس کے پس پردہ حالات کی وضاحت نہیں کی گئی۔
قابض اسرائیل کی فوج نے بیان میں کہا کہ "گولانی بریگیڈ کے 13 ویں دستے کا ایک فوجی گزشتہ روز (پیر) غزہ کے جنوبی علاقے میں ایک آپریشن حادثہ میں شدید زخمی ہوا”، لیکن انہوں نے حادثے کی نوعیت یا اس کے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تاہم قابض اسرائیل کی فوج عام طور پر "آپریشن حادثہ” کا لفظ اس وقت استعمال کرتی ہے جب کوئی واقعہ کسی فوجی سرگرمی یا میدانی مشن کے دوران پیش آئے، لیکن براہ راست جھڑپ یا تصادم سے پیدا نہ ہوا ہو۔
قابض اسرائیلی فوج کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں سات اکتوبر 2023ء سے جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک 923 فوجی اور افسر ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 471 افراد زمین پر ہونے والی لڑائیوں میں مارے گئے، جو سنہ 27 اکتوبر 2023ء سے شروع ہوئی۔
اسی اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 6 ہزار 390 فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 982 زخمی زمین پر لڑائیوں کے دوران ہوئے۔
یہ اعداد و شمار صرف غزہ، لبنان، مقبوضہ مغربی کنارہ، اور قابض اسرائیل میں ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں تک محدود ہیں، جبکہ پولیس اور عام سکیورٹی ادارے "شاباک” کے اہلکار شامل نہیں ہیں۔