(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے 53 بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں جن پر قابض اسرائیل نے پابندی عائد کر رکھی ہے نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے حالیہ رجسٹریشن اقدامات بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی مجموعی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دینے کا سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
ان اداروں نے پریس کو جاری اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ متعدد تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب سیز فائر کے باوجود غزہ کے شہری شدید اور وسیع پیمانے پر انسانی ضروریات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق 30 دسمبر کو 37 بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کو باضابطہ نوٹس موصول ہوا کہ ان کی رجسٹریشن 31 دسمبر سنہ 2025ء کو ختم ہو چکی ہے۔ اس کے بعد 60 دن کی مہلت فعال ہو جاتی ہے جس کے اختتام پر ان تنظیموں کو غزہ اور مغربی کنارے بشمول مشرقی القدس میں اپنی تمام سرگرمیاں بند کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں نے زور دیا کہ وہ انسانی ردعمل کا بنیادی ستون ہیں اور اقوام متحدہ اور فلسطینی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ شراکت میں بڑے پیمانے پر جان بچانے والی امداد فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ قطری انسانی ٹیم اور عطیہ دہندہ حکومتیں بارہا اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ یہ تنظیمیں انسانی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ناگزیر ہیں اور انہوں نے قابض اسرائیل سے اس اقدام سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سیز فائر کے باوجود انسانی ضروریات بدستور نہایت سنگین ہیں۔ غزہ میں ہر چار میں سے ایک خاندان روزانہ صرف ایک ہی کھانے پر گزارا کر رہا ہے۔
اداروں نے بتایا کہ سردیوں کے موسمی دباؤ نے دسیوں ہزار افراد کو بے گھر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی اشد ضرورت ہے۔
بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے غزہ میں خوراک کی نصف سے زائد امداد فراہم کرتے ہیں اور 60 فیصد فیلڈ ہسپتالوں کو چلاتے یا ان کی معاونت کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں پناہ اور غیر غذائی اشیاء کی تقریباً تین چوتھائی سرگرمیاں انجام دیتی ہیں اور شدید خطرناک غذائی قلت کا شکار بچوں کے علاج کی تمام خدمات فراہم کرتی ہیں۔
اداروں نے خبردار کیا کہ ان تنظیموں کو باہر کرنے کے نتیجے میں طبی مراکز بند ہو جائیں گے، خوراک کی تقسیم رک جائے گی، پناہ کی سپلائی چین تباہ ہو جائے گی اور جان بچانے والی نگہداشت کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں بھی فوجی چھاپوں اور آبادکاروں کے تشدد کے باعث آبادی مسلسل بے گھر ہو رہی ہے اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کے کام پر مزید پابندیاں لگانے سے اس نازک مرحلے پر جان بچانے والی امداد کا دائرہ اور تسلسل شدید طور پر متاثر ہو گا۔
اداروں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے اثرات کو منتخب اشاریوں کے ذریعے جانچنے کی حالیہ کوششیں اس حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں کہ انسانی امداد عملی طور پر کیسے فراہم کی جاتی ہے۔ انسانی رسائی کی پیمائش اس بات سے ہونی چاہیے کہ شہریوں کو مناسب مدد درست جگہ اور درست وقت پر مل رہی ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں نے توجہ دلائی کہ وہ عطیہ دہندگان کی جانب سے عائد کردہ سخت تعمیلی فریم ورک کے تحت کام کرتی ہیں جن میں آڈٹ کے عمل، دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کنٹرول اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جانچ پڑتال کے تقاضے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے 500 سے زائد انسانی کارکنوں کو شہید کیا ہے اور یہ تنظیمیں کسی تنازعے کے فریق کو حساس ذاتی معلومات فراہم نہیں کر سکتیں کیونکہ ایسا کرنا انسانی اصولوں کی ذمہ داریوں ،نگہداشت اور ڈیٹا کے تحفظ کی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اداروں نے واضح کیا کہ جھوٹے بیانیے انسانی تنظیموں کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں، کارکنوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور امداد کی ترسیل کو کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی تکنیکی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک دانستہ سیاسی فیصلہ ہے جس کے نتائج پہلے سے واضح ہیں۔ اگر رجسٹریشن کی منسوخی اور خاتمہ نافذ ہو گیا تو قابض اسرائیلی حکومت بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انسانی رسائی کوئی اختیار نہیں اور نہ ہی اسے مشروط یا سیاسی بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک قانونی ذمہ داری ہے۔
اداروں نے خبردار کیا کہ یہ اقدام فلسطینی مقبوضہ زمین میں انسانی سرگرمیوں پر قابض اسرائیل کے کنٹرول کو وسعت دے کر ایک خطرناک مثال قائم کرے گا جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی فریم ورک اور فلسطینی اتھارٹی کے کردار سے متصادم ہے۔
انہوں نے قابض اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ رجسٹریشن منسوخ کرنے کے اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے اور انسانی امداد میں رکاوٹ بننے والی تمام تدابیر ختم کی جائیں۔
اداروں نے عطیہ دہندہ حکومتوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب تمام دباؤ کے ذرائع استعمال کریں تاکہ ان اقدامات کو معطل کرایا جا سکے اور واپس لیا جائے۔ آزاد اور اصولی انسانی سرگرمیوں کا تحفظ ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کو فوری طور پر درکار امداد مل سکے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کا کردار تمام انسانی شعبوں میں ناگزیر ہے۔ صحت کے شعبے میں یہ تنظیمیں غزہ کے تقریباً 60 فیصد فیلڈ ہسپتالوں کو چلاتی یا ان کی معاونت کرتی ہیں اور رجسٹریشن منسوخ ہونے کی صورت میں تقریباً ایک تہائی طبی مراکز فوری طور پر بند ہو جائیں گے۔
اداروں نے بتایا کہ سنہ 2024ء کے دوران فراہم کی گئی خوراکی امداد کا نصف سے زیادہ حصہ انہی تنظیموں نے مہیا کیا جس میں پکائے گئے کھانوں کی تقسیم کے بیشتر مراکز شامل ہیں۔
پناہ کے شعبے میں بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں نے پناہ اور غیر غذائی اشیاء کی تقریباً تین چوتھائی سرگرمیاں انجام دیں اور اس وقت تقریباً چھ لاکھ پناہ کا سامان ان کی سپلائی چین میں موجود ہے۔
پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے پانی نکاسی آب اور حفظان صحت کی 42 فیصد خدمات فراہم کرتے ہیں جن میں شدید آبی اسہال کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس کا مقابلہ بھی شامل ہے۔
غذائیت کے شعبے میں اداروں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں تمام پانچ غذائی تکمیلی مراکز کی معاونت کرتی ہیں جو شدید خطرناک غذائی قلت کا شکار بچوں کا علاج کرتے ہیں اور یوں غزہ میں علاج کی 100 فیصد صلاحیت فراہم کی جاتی ہے۔
بارودی سرنگوں سے متعلق سرگرمیوں میں یہ تنظیمیں خطرناک دھماکا خیز مواد کے خاتمے کے لیے مختص فنڈز کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہیں اور ان کی بے دخلی سے صلاحیت میں 100 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے ہنگامی حالات میں تعلیم کی تقریباً 30 فیصد سرگرمیوں کو چلاتے یا سہارا دیتے ہیں حالانکہ یہ سرگرمیاں پہلے ہی سکول جانے کی عمر کے بچوں کے محدود حصے تک پہنچ پاتی ہیں۔
اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ مقامی ملازمین یا ان کے اہل خانہ کی حساس ذاتی معلومات شیئر نہیں کر سکتیں جو انسانی اصولوں فرضِ نگہداشت اور عالمی ڈیٹا تحفظ کے معیارات سے ہم آہنگ ہے۔
بیان کے مطابق بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں پر عائد پابندیاں فلسطینی اور اسرائیلی شراکت داروں کو براہ راست متاثر کرتی ہیں جس سے مقامی سطح پر ردعمل کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے، مالی وسائل کی ترسیل میں خلل پڑتا ہے اور مختلف شعبوں میں سماجی خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
اداروں نے تصدیق کی کہ انہیں قانونی طور پر کام کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ اقوام متحدہ کے کوآرڈی نیشن نظام اور مقامی شراکت داریوں کے ذریعے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں اور ساتھ ہی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بننے والے اقدامات کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
بیان پر دستخط کرنے والے اداروں میں
Acs
Action Against Hunger ACF
Action for Humanity
ActionAid
American Friends Service Committee AFSC
Amnesty International
AOI Cooperazione e Solidarietà internazionale Italia
CADUS e.V.
Campaign for the Children of Palestine CCP Japan
CARE Canada
CARE International UK
Children are Not Numbers
Churches for Middle East Peace
CISS Cooperazione Internazionale Sud Sud
Council for Arab British Understanding Caabu
DanChurchAid
Danish Refugee Council
Diakonia
EducAid
Emergency NGO
Fondation Terre des hommes Lausanne
Glia
HEKS EPER Swiss Church Aid
Human Rights Solidarity
Humanity and Inclusion Handicap International
INTERPAL
Islamic Relief
Japan International Volunteer Center JVC
Médecins du Monde Suisse
Médecins du Monde France
Médecins Sans Frontières
Medical Aid for Palestinians
medico international
Medicos Del Mundo MDM Spain
Mennonite Central Committee
Middle East Children’s Alliance
NORWAC Norwegian aid committee
Norwegian Church Aid
Norwegian People’s Aid
Norwegian Refugee Council
Oxfam
Pax Christi USA
Peace Winds Japan
Premiere Urgence Internationale
Quakers in Britain
Solidarités International
Terre des hommes Italy
Un Ponte Per
United Against Inhumanity
Vento di Terra ETS
War Child Alliance Foundation
War on Want
WeWorld GVC
شامل ہیں۔