• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 16 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صومالی لینڈ کے ذریعے اسرایئل کا بحیرۂ احمر پر غلبے کا منصوبہ

ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام محض سفارتی نہیں بلکہ خطے میں اسٹریٹجک توسیع کا حصہ ہے۔

ہفتہ 03-01-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
صومالی لینڈ کے ذریعے اسرایئل کا بحیرۂ احمر پر غلبے کا منصوبہ
0
SHARES
5
VIEWS

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کے خطے کو ایک خود مختار اور آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنے کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ اس اعلان کے بعد اس اقدام کے مقاصد، اس کے وقت اور اس کے قرن افریقہ اور بحیرہ احمر میں طاقت کے توازن پر پڑنے والے گہرے اثرات کے حوالے سے وسیع پیمانے پر سیاسی بحث اور تزویراتی تجزیے سامنے آئے ہیں، ایسے وقت میں جب خطہ اور دنیا غیر معمولی حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔

یہ اعلان گذشتہ جمعہ 26 دسمبر سنہ 2025ء کو قابض اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کیا، جس نے اس فیصلے کو ابراہیمی معاہدوں کے فریم ورک سے جوڑا۔ اس کے فوری بعد صومالی حکومت نے اس اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے صومالیہ کی خود مختاری، اس کی علاقائی وحدت کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون سے صریح انحراف قرار دیا۔

یہ اعتراف دیکھتے ہی دیکھتے ایک نئے جیو سیاسی بحران کی صورت اختیار کر گیا جسے علاقائی اور عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

تاریخی پس منظر

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قابض اسرائیلی قدم کسی قسم کا یک طرف واقعے کا حصہ نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک وسیع تر تاریخی تناظر سے ہے۔ قرن افریقہ میں قابض اسرائیل کی دلچسپی کی جڑیں گزشتہ صدی کی پانچویں اور چھٹی دہائی میں پیوست ہیں، جب نام نہاد اطرافی منصوبے کے تحت عرب دنیا کا گھیراؤ کرنے کے لیے اس کے اطراف میں اتحاد اور اثر و رسوخ کے مراکز قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ افریقی امور کے ماہر اور سیاسی تجزیہ کار عبدالقادر محمد علی کے مطابق قابض اسرائیل نے گذشتہ دہائی کے دوران بالخصوص سنہ 2010ء کے بعد اس حکمت عملی کو دوبارہ زندہ کیا، جس پر عرب بہار کے اثرات، غزہ اور جنوبی لبنان میں مزاحمتی تحریکوں کے ابھار اور خطے میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے کردار نے گہرا اثر ڈالا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے سکیورٹی عوامل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ صومالی لینڈ کا جغرافیائی محل وقوع، جو خلیج عدن اور باب المندب کی آبی گزرگاہ پر واقع ہے، تل ابیب کو بین الاقوامی جہاز رانی کی لائنوں پر نظر رکھنے اور یمن میں حوثی گروہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے دنیا کی حساس ترین بحری گذرگاہوں میں سے ایک میں اس کا انٹیلی جنس اور عسکری وجود مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی امور کے ماہر اور دانشور مہند مصطفی کے مطابق یہ اعتراف مشرق وسطیٰ کی جیو سیاسی نقشہ بندی کو ازسرنو ترتیب دینے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے، جس کا مقصد حالیہ برسوں میں قابض اسرائیل کی عسکری برتری کو براہ راست سیاسی اور تزویراتی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم روایتی سرخ لکیروں کو پامال کرنے اور خطے میں نئی زمینی حقیقتیں مسلط کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب محققین کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ کے اپنے مفادات اور حساب کتاب بھی اس قربت میں شامل ہیں۔ خطہ بنیادی طور پر اپنی عالمی تنہائی ختم کرنے اور ایسا سیاسی اعتراف حاصل کرنے کا خواہاں ہے جو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ وسیع تر تعلقات کی راہ ہموار کرے، اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی ضمانتیں، تکنیکی اور زرعی معاونت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی حمایت بھی اس کے اہداف میں شامل ہے۔

محقق لقاء مکی کے مطابق یہ خواہشات ایک سخت قانونی اور سیاسی حقیقت سے ٹکراتی ہیں، کیونکہ عالمی برادری اب تک اس خطے کو تسلیم نہیں کرتی اور صومالی حکومت کسی بھی براہ راست بیرونی روابط کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔

فلسطینیوں کی جبری بے دخلی

کچھ ماہرین اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ قابض اسرائیل کا یہ اعتراف بعض نہایت حساس فائلوں سے بھی جڑا ہو، جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس سے قبل مغربی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکہ اور قابض اسرائیل نے بعض افریقی ممالک، جن میں صومالیہ اور صومالی لینڈ شامل ہیں سے ممکنہ آبادکاری کے منظرناموں پر رابطے کیے تھے، تاہم ان تجاویز کو یا تو مسترد کر دیا گیا یا ان کی تردید کی گئی۔

اس قابض اسرائیلی فیصلے نے بحیرہ احمر اور قرن افریقہ کی سلامتی کے حوالے سے علاقائی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ترکیہ، ایران، مصر اور خلیجی ممالک جیسی بااثر علاقائی قوتوں کو اپنی پالیسیاں ازسرنو جانچنے اور کسی بھی نئے طاقت کے عدم توازن کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی ہم آہنگی بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

کثیر الجہتی پہلو

سیاسی تجزیہ کار عبداللہ راغی کے مطابق اس قدم کے کئی پیچیدہ پہلو ہیں، جن میں سب سے نمایاں ایک تزویراتی پہلو ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ہے، جبکہ دوسرا پہلو صومالیہ میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جہاں ترکیہ نے وسیع سرمایہ کاری، عسکری تعاون اور اعلیٰ سطح کے انٹیلی جنس روابط قائم کر رکھے ہیں۔

دوسری طرف محققین نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل اپنے اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایسے بیانیے کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ، جمہوریت کے فروغ اور ابراہیمی معاہدوں کو مشرق وسطیٰ سے باہر پھیلانے پر مرکوز ہے، تاہم اب تک کسی حقیقی عالمی سرپرستی کے فقدان نے اس اعتراف کو یک طرفہ اور تقسیم پیدا کرنے والا اقدام بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر واشنگٹن نے اس قدم کی کھلی حمایت نہیں کی۔ امریکی وزارت خارجہ نے متحد صومالیہ کی حمایت کی پالیسی پر قائم رہنے کی تصدیق کی، اگرچہ کانگریس کے اندر مستقبل میں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ کا بھی اشارہ دیا گیا۔

اسی طرح مصر، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، اردن اور جیبوتی کی جانب سے باضابطہ مذمتی بیانات سامنے آئے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے بیس ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے تجاوز قرار دیا گیا۔

مبصرین کے مطابق صومالی لینڈ کو قابض اسرائیل کی جانب سے تسلیم کرنا عالمی برادری کے لیے ریاستی خود مختاری اور علاقائی وحدت کے اصول کے تحفظ کا ایک نیا امتحان ہے، ساتھ ہی یہ قابض اسرائیل کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت وہ سیاسی اعترافات کو استعمال کر کے عالمی غفلت اور باہمی بحرانوں میں الجھی دنیا کے سائے میں پورے خطے کی ازسرنو انجینئرنگ کرنا چاہتا ہے۔

Tags: AffairsAfricaAfricanGeopoliticsColonialPolicyGlobalPoliticsHornOfAfricaisraelIsraelExpansionMiddleEastMuslimWorldPalestineSolidarityPoliticsRedSeaRegionalSecuritySomalilandStrategyZionistAgenda
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.