(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) آج بروز بدھ صبح، غزہ پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی شہید ہوگیا۔ یہ حملہ غزہ کے جنوبی شہر رفح کے مشرق میں کیا گیا، جو کہ 19 جنوری سے نافذ العمل قابض ریاست کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق، صیہونی فوج کے ڈرون نے ابو حلاوہ کے علاقے کے قریب بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔
یہ واقعہ اس کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے رفح کے مغرب میں ایک اور فلسطینی کو گولی مار کر شہید کر دیا، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا فلسطینی ہے جو صیہونی ریاست کی دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے جو کہ جنگ بندی کے 25ویں روز ایک اور کھلی خلاف ورزی تھی۔
فلسطینی ذرائع نے تصدیق کی کہ محمد نافذ حسنی ابو طہ نامی شہری اس وقت شہید ہوا جب غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے سعودی محلے کے قریب اُس پر گولیاں برسائیں۔
منگل کے روز، غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ 11 شہداء کی لاشیں اسپتالوں میں پہنچائی گئیں، جن میں سے 8 کو ملبے سے نکالا گیا جبکہ مزید 3 شہداء اور 10 زخمی بھی شامل ہیں۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ کئی متاثرین تاحال ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر موجود ہیں، جہاں تک امدادی ٹیموں اور سول ڈیفنس کے عملے کی رسائی ممکن نہیں۔
اب تک غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک شہداء کی تعداد 48,219 اور زخمیوں کی تعداد 111,665 ہو چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کی دوبارہ شروعات ایک تباہ کن انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسری جانب، حماس کے عسکری ونگ "کتائب القسام” نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ہفتے کے روز تک مؤخر کر دی گئی ہے جب تک کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کرتا اور پچھلے ہفتوں کے وعدوں کو پورا نہیں کرتا۔
منگل کی رات، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی حکومت کی سیاسی و سلامتی کونسل کے ساتھ چار گھنٹے طویل اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ کی دوبارہ شروعات کا دار و مدار ہفتے کو قیدیوں کے تبادلے کی پیش رفت پر ہوگا۔
اجلاس کے بعد نیتن یاہو نے کہا: "ہم نے اپنے تین قیدیوں کی حالتِ زار پر شدید غصے کا اظہار کیا، جنہیں ہفتے کے روز رہا کیا گیا تھا۔”
