• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی میں القدس شامل نہیں: اسرائیل

ہفتہ 20-11-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_al-aqsa-mosque3

اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر تین ماہ کی عارضی پابندی کے بدلے دفاعی تعاون کی تجویز میں مشرقی القدس شامل نہیں اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی مغربی کنارے میں پابندی کے باوجود القدس میں تعمیرات جاری رہیں گی۔ صہیونی حکومتی عہدیداروں نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کو دفاعی اور سفارتی امداد کے بدلے نوے دنوں تک یہودی آباد کاری پر پابندی میں القدس کو شامل نہ کرنے پر راضی ہوگیا ہے، مزید یہ کہ اس عارضی مدت کے خاتمے کے بعد امریکا یہودی کالونیوں کی تعمیر مزید روکنے کا مطالبہ بھی نہیں کرے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے سرکاری ترجمان مارک رگیو نے کہا کہ مستقبل میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر کسی پابندی میں مشرقی القدس ہر گز شامل نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل مغربی کنارے اور القدس میں واضح فرق کرتا ہے۔ ان کے بہ قول ماضی میں یہودی تعمیرات پر پابندی القدس پر لاگو نہیں ہوتی تھی اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ دوسری جانب یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے بدلے امریکی امدادی پیکج کو اسرائیل کے سامنے پیش کرنے والی دائیں بازو کی انتہاء پسند اسرائیلی پارٹی ’’شاس‘‘ نے ’’مشرقی القدس‘‘ سے یہودی تعمیرات پر پابندی ختم کرنے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے تحریری ضمانت مہیا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پس پردہ ہونے والے سمجھوتوں پر بات کرتے ہوئے شاس کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں امریکی پیشکش کے خلاف ووٹ نہ دینے کے بدلے ان کی جماعت کو یہ یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے کہ پابندی کی نوے روزہ مدت ختم ہوتے ہی اسرائیلی وزیر دفاع ایھود باراک مغربی کنارے میں سیکڑوں رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دے دیں گے۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کی خاطر امریکی دفاعی تعاون کی پیشکش پر اسرائیل کی جانب سے تحریری ضمانت کی شرط کی حمایت سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے روز اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کی تعمیر روکنے کی مدت میں توسیع کے بدلے امریکی مراعاتی پیکج پر حمایت کو اس بنا پر موخر کرنے کا اعلان کیا تھا کہ اسرائیل امریکی یقین دہانیوں کا تحریری ثبوت چاہتا ہے۔ اس پیکج کے تحت امریکا، اسرائِیل کو تین ارب ڈالرز مالیت کے بیس جدید ایف 35 جنگی طیارے مہیا کرنے پر غور کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے کی فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت کے مابین امریکی ثالثی میں 02 ستمبر کو شروع ہونے والے مذاکرات یہودی بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر تعطل کا شکار ہیں، اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور القدس میں یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کیے جانے کے بعد سے فلسطینی انتظامیہ اسرائیل سے کسی قسم کی امن بات چیت سے گریزاں ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.