• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

عالمی تحقیقات میں مداخلت پر ترکی نے امریکی سفارتکار کو طلب کرلیا

بدھ 04-08-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_gaza-boat-aid-convoy-freedom-flotilla-attacked

ترک ریاست نے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کی کوشش میں دیے جانے والے امریکی سفیر کے بیان پر امریکی سفارتکار کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ صہیونی بحریہ کی جانب سے 31 مئی کو غزہ کے لیے امدادی سامان لیکر انے والے امدادی بحری قافلے پر حملے میں 09 ترک رضا کار شہید ہوئے تھے۔ امریکی اعلی اختیاراتی سفیر نے بیان دیا تھا کہ سانحے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کام ترک اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ فرانس کی نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی کے سفیر نے انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیئرمین ’’دوغ سیلیمان‘‘ کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے سخت ملامت کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے سانحہ فریڈم فلوٹیلا کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کے بعد امریکا کی سفیرہ ’’سوزان رائس‘‘ کے بیان کہ ’’ اقوام متحدہ کی تحقیقات کہ اسرائیل کی داخلی تحقیق کا بدل نہیں ہو سکتیں‘‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سفیر نے کہا کہ امریکا کمیٹی کے متعلق انتہائی تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ’’رائس‘‘ کے بیان سے ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے امریکا اس کمیٹی کے اختیارات کی محدود کرنا چاہتا ہے۔ انقرہ نے اس امریکی رائے پر کہ کمیٹی کا مقصد اسرائیل اور ترکی کے مابین کشیدہ تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرنا ہے۔ ترک سفیر نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی حملہ ترکی اور صہیونی ریاست نہیں بلکہ عالمی برادری اور صہیونی ریاست کے مابین کشیدگی کی وجہ ہے کیونکہ اس امدادی جہاز پر 30 سے عالمی رضاکار سوار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ کمیٹی کا کام واقعے کی تحقیقات کرنا ہے اسرائیل کی طرف سے معذرت کرنا یا اسرائیل اور ترکی کے مابین تعلقات میں بہتری لانا نہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ پر کیے گئے حملے میں نو ترک باشندے شہید ہوئے جن میں سے ایک امریکی نژاد تھا۔ ترکی نے اسرائیل کو عالمی قوانین کی توہین قرار دیتے ہوئے فی الفور اپنے سفارت کار کو اسرائیل سے واپس بلا لیا تھا اور طے شدہ شیڈول کے مطابق اسرائیل کے ساتھ مل کر کی جانے والی تین جنگی مشقیں بھی منسوخ کر دی تھیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.