• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

صہیونی قیادت کے خلاف جرمن عدالت میں مقدمہ چلانے پر غور

بدھ 09-06-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_norman-peach-german-international-law-expert-and-one-of-the-participants-in-the-freedom-flotilla-convoy

فریڈم فلوٹیلا پر سفر کرنے والے جرمنی کے ماہر قانون نورمن پیچ نے واضح کیا ہے کہ جرمنی فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کے ذمہ دار صہیونی رہنماؤں کے خلاف ملکی عدالت میں مقدمہ چلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ جرمن پارلیمان میں امور خارجہ کی کمیٹی کی مخالف بائیں بازو کی ایک جماعت کے سابقہ ترجمان اور جرمنی کی یونیورسٹیوں میں قانون بین الاقوام کے استاد پروفیسر نورمن پیچ نے الجزیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی توہین کرنے پر صہیونی رہنماؤں کے خلاف جرمن عدالت میں مقدمہ چلانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ بیچ نے واضح کیا کہ صہیونی بحری فوج کی جانب سے غزہ کی جانب امدادی سامان لے کر جانے والے سفینہ حریت پر کیا جانے والا حملہ عالمی قوانین کے تحت جنگی جرم شمار ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے عالمی کریمنل کورٹ کے چارٹر پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے اس کا ٹرائل اس عدالت میں نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، جس کو سفینہ حریت پر جارحیت سے سب سے زیادہ نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو اس بات پر راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے کو وہ صہیونی قتل عام کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ درج کروائے۔ انہوں نے اسرائیلی حکام کے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا کہ صہیونی فوج نے بے گناہ افراد کا قتل اپنے دفاع میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ فریڈم فلوٹیلا پر اسلحے کی موجودگی دروغ گوئی پر مبنی اور بے بنیاد بات ہے، انہوں نے کہا کہ صہیونی خفیہ ایجنسیاں سفر کے آغاز سے اختتام تک سفینہ حریت کی نگرانی کر رہی تھیں ، آئرلینڈ، ایتھنز اور استنبول کے ساحلوں پرجہاز کے تمام سامان کی سکریننگ کی گئی تھی۔ اور اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ جہاز پر کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشدود کی بندرگاہ پر صہیونی تفتیش اورچیکنگ میں بھی پورے قافلے سے معمولی سا اسلحہ بھی برآمد نہ کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس قافلہ حریت کے دواہداف تھے ایک ہدف انسانی تھا جس کے تحت چار سال سے صہیونی محاصرے کے باعث مشکلات میں مبتلا پندرہ لاکھ اہل غزہ تک امدادی سامان پہنچانا تھا، دوسرا ہدف سیاسی تھا اور وہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرانا تھا۔ یاد رہے کہ پیچ پچھلے سال اکتوبر میں بھی غزہ کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے دو ساتھیوں اینجی ہوگر اور آنیتہ کروت اور دیگر 700 رضاکاروں کے ہمراہ غزہ کی جانب گامزن فریڈم فلوٹیلا پر بھی سوار تھے جہاں سے وہ صہیونی فوجیوں کے ہتھے چڑھ کر اشدود کی اسرائیلی جیل منتقل کردیے گئے تھے اور ایک دن قید کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.