• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 11 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

اسرائیل کسی صورت میں بھی حسنی مبارک کی تبدیلی کا خواہاں نہیں:امریکی دانشور

اتوار 06-02-2011
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_benjamin-netanyahu-israeli-prime-minister-and-hosni-mubarak-egyptian-president

"اسرائیل نہیں چاہتا کہ موجودہ عوامی انقلاب کی صورت میں صدر حسنی مبارک کو ہٹایا جائے یا ان کے نظام کو تبدیل کیا جائے. مصرمیں صدر مبارک ہٹاٶ تحریک میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں. اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مصرمیں صدرحسنی مبارک کے نظام کے خاتمے کا انجام ایک بنیاد پرست اسلامی ریاست کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے”. ان خیالات کا اظہار ایک امریکی دانشور محکمہ خارجہ کے مشیر ڈیویڈ میلر نے اپنے ایک تازہ مضمون میں کیا ہے. ان کا یہ مضمون حال ہی میں مختلف امریکی اخبارات میں شائع کیا گیا. فاضل امریکی تجزیہ نگارکا کہنا ہے کہ مصر میں جاری عوامی انقلاب کی تحریک کواسرائیل سخت تشویش کی نظرسے دیکھتا ہے. مصر میں آنے والی ممکنہ تبدیلی یا حسنی مبارک کے ہٹنے کو تل ابیب تین حوالوں سے دیکھتا ہے. اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ صدرمبارک کے منظر سے ہٹنے کے بعد یہ امکان ہے قاہرہ ایک بنیاد پرست اسلامی ریاست بن جائے گا. دوسرا تاثر یہ ہے کہ مصرمیں تبدیلی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے امن معاہدے ٹوٹنے کا اندیشہ ہے اور تیسرا یہ تاثر بھی عام ہو رہا ہے کہ مصر اسرائیل کےخلاف ایک نئی جنگ بھی چھیڑ سکتا ہے. امریکی تجزیہ نگارکا کہنا ہے کہ مصرکے موجودہ بحرانی حالات میں امریکی حکام اسرائیل سے رابطے میں ہیں. واشنگٹن اسرائیل کومسلسل یقین دہانی کرا رہا ہے کہ قاہرہ میں سیاسی تبدیلی سے اسرائیل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا کیونکہ امریکا صہیونی ریاست کو درپیش تمام مشکلات کو دور کرنے میں اس کی مدد کرے گا. امریکی تجزیہ نگار ڈیوڈ میلر کا کہنا ہے کہ مصرکے بارے میں امریکی اور اسرائیلی خارجہ پالیسیوں میں سخت تضاد پایا جاتا ہے. اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ امریکا مصرمیں صدرحسنی مبارک کے نظام کی حمایت کرے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ مصرمیں جمہوریت کے حق میں ہے اور صدرمبارک کو جلد ازجلد ہٹانے کے لیے عوامی تحریک میں عوام کے ساتھ ہے.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.