• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

نیتن یاھو نے مذاکرات کے لیے یہودی ریاست تسلیم کرنے کی شرط عائد کر دی

اتوار 22-08-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_benjamin-netanyahu-israeli-prime-minister19

فلسطینی غیر آئینی صدر محمود عباس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے پیش کردہ تمام شرائط سے دستبرداری کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے ’’بنیادی باتوں‘‘ کے نام سے اپنی شرائط عائد کر دیں۔ انہوں نے مذاکرات کے آغاز سے قبل یہودی ریاست کے اعتراف، سیکیورٹی انتظامات، اور جھگڑا ختم کرنے کے اعلان کو ضروری قرار دیا ہے۔ بنجمن نیتن یاھو نے وزراء کونسل کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کہا کہ فلسطین کے ساتھ امن کا قیام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں، ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فلسطینیوں کو حقیقی طور پر اسرائیل کے جانب ہاتھ بڑھانا ہو گا۔ اس موقع پر صہیونی وزیراعظم شمعون پیریز نے ستمبر کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا۔ انہوں نے مذاکرات کے آغاز کو اسرائیل کے لیے ایک نیا باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین جھگڑے کا خاتمہ پورے مشرق وسطی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی موقع پر صہیونی ریاست نے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں مکمل طور پر اسلحہ پھینکنے کا مطالبہ کیا اور ستمبر کا آغاز ہوتے ہی فی الفور براہ راست مذاکرات کے آغاز کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اسرائیل کے سیاسی ذرائع نے واضح کیا کہ فلسطین کے ساتھ براہ راست کے پہلے مرحلے پر فلسطینی ریاست سے اسلحہ چھوڑ دینے کی بات ہو گی، فلسطین سے بات کی جائے گی کہ اسلحہ صرف پولیس کے پاس ہونا چاہیے، اسی طرح فلسطین کو سہ طرفی امن معاہدے کی ترغیب دی جائے گی۔ دوسری جانب ذرائع نے کہا کہ اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کہ وادی اردن اور اس کی بلند چوٹیاں صہیونی حکام کے زیر تسلط ہی رہیں۔ ذرائع نے کہا کہ عباس حکومت اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کے ایجنڈے پر سر فہرست مسائل میں سکیورٹی انتظامات کا مسئلہ بھی ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.