• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

محمود عباس کے بدنام زمانہ ٹارچرسیل "عذاب کا قلعہ” کا انکشاف

جمعرات 21-10-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_abbas-militia-pro-israel64

فلسطینی اتھارٹی کے غیرآئینی سربراہ محمود عباس المعروف ابو مازن کو براہ راست جواب دہ ملیشیا اورانٹیلی جنس اداروں نے مغربی کنارے کے چپے چپے پرتفتیشی مراکز اور ٹارچرسیل قائم کر رکھے ہیں جہاں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس”، جہاد اسلامی اور دیگرمزاحمتی تنظیموں کے گرفتار ارکان کو اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین نے ایک نہایت پراسرار خطرناک اور خفیہ حراستی مرکز کا پتہ چلایا ہے جس میں قیدیوں پرمظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں. مرکز اطلاعات فلسطین کو ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں تیارکردہ رپورٹ کے مطابق عباس ملیشیا کے زیرانتظام تاریخی فلسطینی شہرالخلیل میں "عذاب کا قلعہ” کےنام سے ایک حراستی مرکز قائم ہے. حراستی مرکز سیکڑوں مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے چاروں طرف دور دور تک عباس ملیشیا نے بیرونی دیواریں تعمیر کر کے اسے عملا ایک قلعہ ہی کی شکل دے رکھی ہے. قلعے کے اندر کئی درجن ٹارچرسیل اور قیدیوں کے لیے کوٹھڑیاں بنائی گئی ہیں. کسی بھی خطرناک سے خطرناک قیدی کو بھی گرفتاری کے فوری بعد اس جگہ نہیں لایا جاتا بلکہ گرفتار ہونے والوں سے پہلے "دورا”، "حلحول”، "یطا”اور” تفوح” جیسے تفتیشی مراکز میں رکھا جاتا ہے. کسی بھی قیدی کو دوسرے مرحلے میں اور آخری درجے کے تشدد کے لیے اس جیل میں منتقل کیا جاتا ہے.یہاں پر قیدیوں سے تفتیش کے لیے مخصوص افراد کو مقرر کیا جاتا ہے. ایسے تمام افراد جن کے نزدیک اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت سنگین نوعیت کا جرم اور اس جرم کی سزا موت ہے. نہایت ظالم اور سفاک تفتیش کار یہاں پرقیدیوں کو اذیت ناک سزائیں دیتے ہیں. یہاں ایک کمرے میں ایک سے زیادہ قیدیوں کو نہیں رکھا جاتا، کیونکہ ہر کمرہ ڈیٹرھ مربع میٹرتک پھیلا ہوتا ہے، کسی ایک شخص کا بھی اس میں بیٹھنا، لیٹنا یا کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے. لوہے کے بنے ان پنجروں کی چھت صرف آہنی جالی سے بنائی گئی ہے جو بارش اور دھوب دونوں کو یکساں راستہ فراہم کرتی ہے. "عذاب کا قلعہ” نامی اس جیل میں قیدیوں پر تشدد کے آخری درجے استعمال کیا جاتے ہے. دوران حراست شہید ہونے والے بیشتر قیدی اسی عقوبت خانے میں تشدد برداشت نہ کر سکنے کے بعد انتقال کر جاتے ہیں. تشدد کے مختلف حربوں میں نازک اعضا پر بجلی کے جھٹکے،لگانا، لوہے کی گرم سلاخوں سے جسم کو داغنا، مسلسل بیدار رکھنا اور الٹا لٹکا کر تشدد کرنا زیادہ اہم ہیں. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ رمضان المبارک میں القسام بریگیڈ کے جانب سے چاریہودی آبادکاروں کی ہلاکت کے بعد حماس کے جتنے اراکین کو حراست میں لیا گیا انہیں اسی بدنام جیل میں عقوبت کا نشانہ بنایا گیا. تشدد کے بعد بہت سے قیدیوں کی حالت غیرہونے پر انہیں اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.