• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

امریکا سے ڈکٹیشن نہ لی جائے، عباس نے عرب لیگ کی درخواست رد کر دی

ہفتہ 31-07-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_mahmoud-abbas-pro-israel361

عرب سفارتی ذرائع کے مطابق عرب لیگ کے جس اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے مابین براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا اس سے قبل لیگ کے جنرل سیکرٹری عمرو موسی نے محمود عباس اور قطر کے امیر حمد بن جاسم سے بند کمرے میں ملاقات کی جس میں انہیں امریکی ڈکٹیشن لینے سے روکا گیا۔ عباس نے عمرو موسی کی درخواست کو اس بنا پر رد کر دیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ذرائع کے مطابق عمرو موسی نے اپنی اس ملاقت میں ابومازن کو اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی جانب نہ جھکنے کی تلقین کی اور واضح کیا کہ اسرائیل کسی قسم کی ضمانت پر عملدرآمد نہیں کریگا۔ تاہم فلسطین کے غیر آئینی صدر ابومازن (محمود عباس) نے عمرو موسی کی تجویز یہ کہ کر رد کر دی کہ انہیں امریکا کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ کا پیغام ملا ہے، جلد یا بدیر اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات تو کرنا ہی پڑیں گے اور یہ کہ اس معاملے پر آخری فیصلہ عرب ووٹ کے ذریعے ہی کیا جائے گا‘‘ ذرائع کے مطابق کہ عباس نے عمرو موسی کو امریکا کی جانب سے موصول ہونے والے خط کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس خط میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہ کرنے کی صورت میں دھمکیوں کے ساتھ یہودی آباد کاری روکنے کی ضمانتیں بھی فراہم کی گئی ہیں، یہ خط امریکا اور فلسطین کے تعلقات صدائے بازگشت ثابت ہو سکتا ہے، مزید یہ کہ امریکی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی کی مدت میں توسیع کی حمایت بھی نہیں کی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ عمرو موسی نے عباس کی جانب سے امریکی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے اسرائیلیوں کو اپنے جرائم کو جواز فراہم کرنے اور مذموم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ تاہم عمرو موسی نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عباس پر چھوڑ دیا جائے تاکہ امریکی شرائط تسلیم کرنے کے نتائج کی ذمہ داری بھی تنہا عباس پر ہی عائد ہو۔ دوسری جانب فلسطینی ذرائع نے صہیونی ریڈیو کے حوالے سے بتایا ہے کہ عباس اور اسرائیل کے مابین براہ راست مذاکرات کا آغاز عید الفطر کے بعد اور 26 ستبمر سے پہلے ہو جائے گا، اس تاریخ کو اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر نام نہاد ’’یک طرفہ پابندی‘‘ بھی ختم ہو رہی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عرب فالو اپ کمیٹی کا اگلا اجلاس 16 ستمبر کو ہو گا، توقع کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں گزشتہ جمعرات کو واشنگٹن بھیجے گئے سوالات پر امریکا کی جانب سے دیے جانے والے جوابات بھی پیش کیے جائیں گے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.