(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) وائٹ ہاؤس نے عرب ممالک کی جانب سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی عرب سربراہی اجلاس جس میں غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا تھا کو مسترد کر دیا ہے، جو غزہ کی تعمیر نو کو بغیر وہاں کے باشندوں کی جبری ہجرت کے ممکن بنانے پر مبنی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ "غزہ کی حقیقت کو حل نہیں کرتا، صدر ٹرمپ غزہ کے حوالے سے اپنی تجویز پر اب بھی قائم ہیں۔”
گزشتہ ماہ، فلسطینیوں کی جبری ہجرت اور غزہ پر امریکی کنٹرول کے تحت امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کو عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، جس نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اور فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا، جبکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اس کی مخالفت کی۔
قاہرہ میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران، مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، جو کہ غزہ میں تباہ کن حالات کا سبب بن رہا ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی مصری منصوبے کا خیرمقدم کیا اور ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے کی موجودہ شکل میں حمایت کریں، جو کہ غزہ کے باشندوں کی جبری ہجرت کے خلاف ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان، برائن ہیوز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "موجودہ تجویز اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ اس وقت غزہ انسانی زندگی کے لیے غیر موزوں ہے، جہاں لوگ تباہ شدہ عمارتوں اور ایسے بارودی مواد کے درمیان رہنے پر مجبور ہیں جو پھٹ نہیں سکا لیکن وہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جس سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔”صدر ٹرمپ غزہ کو حماس سے پاک کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کے اپنے وژن پر قائم ہیں۔”
دوسری جانب، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس منصوبے کو "فرسودہ خیالات پر مبنی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اس نے فلسطینی اتھارٹی پر اعتماد کرنے کو مسترد کرتے ہوئے شکایت کی کہ اس منصوبے میں حماس کو انتظامی حیثیت برقرار رکھنے دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان، اورین مارمورسٹین نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ "فلسطینی اتھارٹی اور اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) پر انحصار کرتا ہے۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ "77 سالوں سے عرب ممالک فلسطینیوں کو غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور انہیں ہمیشہ کے لیے پناہ گزینوں کی حیثیت میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
اپنی مزعومہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، انہوں نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، جو فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے اور اس پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے قبضے کو مضبوط کرنے پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا، "اب، صدر ٹرمپ کے منصوبے کے ساتھ، غزہ کے باشندوں کے پاس ایک آزادانہ انتخاب کا موقع ہے، اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے! لیکن عرب ممالک نے اس موقع کو بغیر کسی غور و فکر کے مسترد کر دیا اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔”