اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک یہودی انسانی حقوق تنظیم’ ’ھموکیڈ‘‘ نے صہیونی ریاست کی شہریت سے متعلق قانون مجریہ 2003 ء کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے اسے فلسطینی شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کا مظہر قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ’’ہموکیڈ‘‘ کی جانب سے جاری ’’ اسرائیلی شہریت کے قانون کے سائے میں مشرقی بیت المقدس میں زندگی‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کی شہریت کے قانون میں اسرائیل کے زیرانتظام آنے والے علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینی خاندانوں، خواتین اور بچوں کو اسرائیلی شہری تسلیم کرنے کی مخالفت کی گئی ہے جو صہیونی نسل پرستی کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک عشرے سے اسرائیل میں صہیونی ریاست کی شہریت کے قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے فلسطینیوں سے نسل امتیاز برتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نسل پرستانہ قانون میں فلسطینی شہریوں پر کئی قسم کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت کہا گیا ہے کہ اگر کسی فلسطینی بچے کے والدین میں سے کوئی ایک اسرائیل میں اور دوسرا فلسطین کے کسی دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہو تو بچوں کو اسرائیلی شہریت کا حق نہیں دیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کی آڑ میں ہزاروں فلسطینی خاندانوں کا مستقبل خطرے سے دوچار ہوچکا ہے۔ اگر اسرائیل انہیں اپنا شہری ماننے سے انکار کرتا ہے تو ان کے پاس اس نسل پرستانہ قانون کی رو سے صہیونی ریاست میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
