فلسطین مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کے یہودی منصوبوں، یہودی آبادکاری کے لیے ہونے والی تعمیرات اور تلمودی پارکوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے سرگرم سپریم کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ صہیونی حکومت مسجد اقصیٰ کے پہلو میں چار ایکڑ رقبے پر ایک تلمودی پارک کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو مسجد اقصیٰ کے لیے براہ راست خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
فلسطینی مسلم۔ مسیحی سپریم کمیٹی برائے تحفظ مقدسات کے سیکرٹری جنرل حنا عیسیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بیت المقدس کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کے توسیع پسندانہ منصوبوں کے نتیجے میں مسلم اورمسیحی ثقافت کے مرکز[بیت المقدس] کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ آئے روز شہرمیں اسرائیل کےکسی نئے تعمیراتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہوتا ہے، جس نے شہر کا تاریخی ثقافتی اور تہذیبی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ظاہری نقشہ بھی بدل دیا ہے۔
حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت بیت المقدس کی تاریخی حیثیت اورمقدس شہرکے تشخص کو پامال کرنے کے لیے من گھڑت تاریخی حوالے وضع کررہی ہے۔ صہیونی اسکولوں میں بیت المقدس کےحوالے سے جو نصاب پڑھایا جا رہا ہےاس میں بیت المقدس کو یہودیوں کی ملکیت قراردے کرگمراہ کیا جا رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے اس پاس اور تمام مقدس مقامات کے گردو پیش میں اسرائیلی بلدیہ نے پارکوں، تفریح گاہوں، ہوٹلوں اور دیگر یہودی مقامات کا ایک جال بچھا رکھا ہے جس نے شہرکا نقشہ مسخ کرکرکے رکھ دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
