اسرائیل میں یہودیوں کے سب بڑے مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ یہودی ربی نے حکومت اور مسلح افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی اور مصر کے العریش پر دوبارہ قبضہ کر لیں۔ یہودی ربی کا کہنا ہےکہ یہ دونوں شہر "عظیم تراسرائیل”کا جزو ہیں،
انہیں جلد ازجلد صہیونی ریاست میں شامل کر لینا چاہیے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی ایک عبرانی نیوز ویب سائیٹ "سروگیم” نے اپنی رپورٹ میں سرکردہ یہودی ربی”شموئیل شبیرا” کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ اس بیان میں یہودی ربی کا کہنا ہے کہ ان کی مقدس کتابوں اور تورات مقدس بھی غزہ کی پٹی کو فلسطینی ریاست کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تورات میں غزہ کی پٹی کا کئی مقامات پر تذکرہ ہے اور اسے اسرائیلی مملکت کا حصہ بتایا گیا ہے۔
انتہا پسند یہودی ربی اور اسرائیلی فوج کے مقرب خیال کیے جانے والے یہودی عالم دین شبیرا کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی ساحل سےملحقہ شہروں پر کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔اس سمت میں مصر کا شہرالعریش بھی آتا ہے جو عظیم تر اسرائیل کا جزو ہے۔ اسرائیلی حکومت کو چاہیے کہ وہ جزیرہ نما سینا اور اس کے بڑے شہرالعریش میں اپنی فوج داخل کردے۔
ادھر یہودی پیشواؤں کے ایک دوسرے گروپ نے اسرائیلی وزارت تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکولوں کے نصاب تعلیم میں مکمل اسرائیلی ریاست کے نقشے، اس کے جغرافیے اور محل وقوع کے بارے میں مضامین شامل کریں اور نئی یہودی نسل کو بتائیں کہ”عظیم تراسرائیل” کے نقشے میں کون کون سے علاقے شامل ہیں۔

