(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے کل سوموار کو ایک کیس کی سماعت کے دوران ایک فلسطینی بچے پر یہودی آباد کار خاتون کے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے 16 سالہ فلسطینی لڑکے مراد بدر عبداللہ ادعیس کو 19 جنوری 2016 ء کو مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے بیت امرقصبے سے حراست میں لیا تھا۔ اس کی گرفتاری سے دو روزپیشتر اسی علاقے میں قائم ’’ عتنئیل‘‘ نامی ایک یہودی کالونی میں چاقو کے وار سے ایک یہودی خاتون ہلاک ہوگئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے حملے میں مراد عبداللہ ادعیس کو قصور وار قرار دیا تھا۔فرد جرم کی تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی لڑکے نے ٹی وی اسکرین پردکھائے گئے فلسطینیوں پر تشدد اور اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتل کے مناظر سے متاثر ہوکر یہودی خاتون کو ہلاک کیا تھا۔
خیال رہے کہ 38 سالہ دفنا مئیر کو مراد ادعیس نے چاقو کے متعدد وار کرکے ہلاک کردیا تھا۔ جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے کم سن فلسطینی قاتل کے گھر کا محاصرہ کرکے وہاں سے ادعیس کو حراست میں لے لیا تھاْ۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مراد ادعیس یہودی خاتون کو ہلاک کرنے کے بعد بہ حفاظت وہاں سے فرار میں کامیاب ہوگیا تھا۔
