رپورٹ کے مطابق یہودی انتہا پسندوں کی نمائندہ تنظیموں کے اتحاد نے اپنے ایک بیان میں یہودیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موسم بہارکے موقع پر تلمودی مذہبی تہواروں کےدوران جبل المکبر، دیوار گریہ(دیوار براق) اور دیگر مقامات پر حاضری کو یقینی بنائیں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ میں جمع ہو کر مذہبی رسومات ادا کریں۔ بیان میں یہودیوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپریل میں ہونے والی عید الفصح کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں اپنی حاضری کو یقینی بنانے کےلیے آج ہی سے تیاریاں شروع کردیں۔
رپورٹ کے مطابق یہودی شرپسند گروپوں کی جانب سے انتہا پسندوں کو قبلہ اوّل پریلغار کرنے کی ترغیبات پرمبنی بیانات سوشل میڈیا اور انتہا پسندوں کی مقرب دوسرے ذرائع ابلاغ میں بڑے پیمانے پر شائع کیے جا رہے ہیں۔
یہ اشتعال انگیز ترغیبات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ ایام میں یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی کابینہ میں شامل انتہا پسند وزراء نے کہا ہے کہ وہ پچھلے سال اردن اور تل ابیب کے درمیان مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی تعداد کم کرنے کے حوالے سے طے پائے معاہدے پرعمل درآمد کے پابند نہیں ہیں۔ اسرائیلی وزراء کی جانب سے ان بیانات سے یہ بات آشکار ہوگئی ہے کہ اسرائیل میں حکومتی سطح پر قبلہ اوّل کی بے حرمتی کی منصوبہ سازی کی جاتی ہے۔ یوں اسرائیلی حکومت انتہا پسند یہودیوں کو اپنی مذموم سازشوں کی تکمیل کے لیے ہرممکن سہولت مہیا کررہی ہے۔
