ترکی کی حکومت نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں ساڑھے پانچ سو نئے مکانات کی تعمیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے
کہ وہ آباد کاری کے سلسلے میں اپنی حدوں میں رہے۔ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کے لیے مکانات اور کالونیوں کی تعمیر پر اسرائیل کو عالمی کہٹرےمیں لائیں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں 551 نئے مکانات کی تعمیر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی حکومت یہودی آباد کاری جیسے غیرآئینی اقدام کو سند جواز فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی آڑ لے رہا ہے۔ تاہم اسرائیل میں قانون سازی سے دنیا بھرکے قوانین تبدیل نہیں ہوسکتے۔ عالمی قوانین کی رو سے یہودی بستیوں کی تعمیر پہلے بھی غیر قانونی تھی اور آج بھی غیر آئینی ہے۔
ترک وزارت خارجہ نے اسرائیل کی موجودہ پالیسی کو ’’امن دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں بدامنی، افراتفری اور لاقونیت میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن وامان کی بحالی کے سلسلے میں عالمی برادری نے جتنی مساعی کی ہیں اسرائیل نے انہیں سبوتاژ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

