مقبوضہ بیت المقدس اور ملک میں دیگرمقدس مقامات کی حفاظت پر مامور فلسطینی مسلمانوں اور مسیحی برادری کے مشترکہ ادارے نے کہا ہے کہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کی تعمیر فلسطین سے متعلق عالمی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
فلسطینی مسیحی اور مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم”مسلم۔ مسیحی سپریم کونسل برائے مقدسات فلسطین” کے سیکرٹری جنرل حنان عیسیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کا قیام تمام عالمی معاہدوں بشمول جنیوا کنونشن مجریہ سنہ 1948ء کی رو سے غیرقانونی اقدامات ہیں۔ عالمی قوانین کی رو سے فلسطینیوں کو ان کے وطن میں آزادی کے ساتھ رہنے اور زندگی گذارنے کے حق کی حمایت کی گئی ہے مگر صہیونی ریاست کی فلسطین دشمن پالیسیاں عالمی قوانین اور معاہدوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
حنان عیسیٰ کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہودی کالونیوں کو کسی قسم کا آئینی اور قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ اسرائٓیل کے ایسے اقدامات قابل تسلیم نہیں ہوں گے جن کے ذریعے فلسطینیوں کے تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو گی۔
اسرائیل کی قائم کردہ تمام یہودی کالونیاں نہ صرف فلسطینیوں کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ ان کے قومی تشخص کو تباہ کرنے کی ایک خطرناک سازش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہودی کالونیوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہا ہوں۔ اب یہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو ان معاہدوں کی خلاف ورزی سے باز رکھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
