مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہ واقعہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے جنوب میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہودی آباد کاروں کا تعلق جنوبی نابلس میں قائم "یتسھار” کالونی سے تھا جو اس سے قبل بھی فلسطینیوں کی املاک پر حملے کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں نے کالونی کے اندر آنے والے فلسطینیوں کے متعدد مکانات بھی مسمار کردیے تھے۔
مغربی کنارے میں یہودی توسیع پسندی کے خلاف سرگرم کمیٹی کے ایک مرکزی ذمہ دار غسان دغلس نے بتایا کہ یہودی انتہا پسندوں نے "یتسھار” کالونی کے بالمقابل ام ایمن صوفان نامی خاتون کے مکان پر پٹرول بم پھینکے اور سنگ باری کی۔ انہیں یہودی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں کی کھڑی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کر دیے اور فلسطینی راہ گیروں کو بھی زدو کوب کیا۔
قبل ازیں اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی تھی کہ صہیونی فوجیوں نے "یتسھار” کالونی میں فلسطینیوں کے بنائے گئے چار مکانات مسمار کردیے، جس کے بعد مشتعل فلسطینیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان خون ریز جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
