رپورٹ کے مطابق جنین شہر کے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے آس پاس قائم کی گئی یہودی کالونیوں کے آباد کار جنین شہر کو کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر یہودی کالونیوں سے نکالا جانے والا سیکڑوں ٹن کوڑا کرکٹ پھولوں کی وادی اور جنت نظیر کہلانے والے شہر کے پرفضاء مقامات میں پھینکا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مقامی شہریوں میں وبائی پھوٹنے لگی ہیں۔
مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی پولیس اور دیگر حکام کے پاس کوڑے کرکٹ پھینکے جانے کی شکایات کرکے تھک چکے ہیں مگر صہیونی حکام کےطرز عمل سے ایسے لگتا ہے کہ یہ مکروہ حربہ ان کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔
مقامی شہریوں نے فلسطینی اتھارٹی کے حکام کی توجہ بھی اس اہم معاملے کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی مگر فلسطینی اتھارٹی بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ کوڑے کے تیزی سے پھیلتے ڈھیر مقامی فلسطینی آبادی حتیٰ کہ حیوانی اور نباتاتی زندگی پربھی گہرے منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔
