سینکڑوں کی تعداد میں اسرائیلی آبادکاروں نے گزشتہ روز نابلس اور طولکرم کے علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور املاک پر حملہ کردیا۔ یہ واقعہ زعترہ ناکے پر ایک یہودی آبادکار کی ہلاکت کے بعد پیش آیا۔
نابلس کے جنوب میں حوارہ ناکے پر یہودی آبادکاروں کے ایک گروہ نے دو بسوں میں سوار طالبات پر حملہ کردیا جس سے 50 طالبات زخمی ہوگئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ آبادکاروں نے بسوں کو قبضے میں لے لیا اور ان کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
مقامی میڈیا ذرائع نے بتایا کہ نقاب پوش اور اسلحہ بردار آبادکاروں نے نابلس کے چوکوں پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں اور فلسطینی گاڑیوں پر پتھرائو کرنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
اسی دوران جبعات جلعات یہودی بستی کے آبادکاروں نے نابلس کے گائوں فراطہ میں زیتون کے درجنوں درختوں کو آگ لگا دی اور طولکرم کے مشرق میں فلسطینی گاڑیوں پر حملہ کردیا۔
اس کے علاوہ زعترہ ناکے کی نزدیکی فوجی چوکیوں پر تعینات صیہونی فوجیوں نے نابلس کے جنوب میں واقع ناکے کے علاقے کو بند کرنے کے بعد تقریبا ایک ہزار فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
اسرائیلی فوج نے طولکرم کے ضاحیہ شویکہ گائوں پر حملہ کیا اور زعترہ ناکے پر یہودی آبادکار پر حملہ کرنے والے فلسطینی کے گھر پر چھاپہ مارا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے گائوں پر حملہ کردیا اور سلام الزغل کے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہودی آبادکار کی موت کے بعد زعترہ ناکے کو بند کردیا گیا اور سلام الزغل کو 48ء کے فلسطینی علاقوں میں ایک ہسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں الزغل کے خاندان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سلام ابھی تک زندہ ہیں اور وہ ایک فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اس موقع تک وہ شہید نہیں ہوئے.
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہودی آبادکاروں کے حملوں میں بہت سے فلسطینی جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، زخمی ہوگئے ہیں جبکہ صیہونی فوج نے شہریوں پر حملے کئے اور انہیں حوارہ اور زعترہ ناکوں سے گزرنے سے روک دیا۔
اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے سٹیشن پر ٹرین کا انتظار کرتے فلسطینیوں کو سٹیشن سے نکال دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے الخلیل اور بیت لحم کی چوکیوں اور یہودی بستیوں کو جانے والے چوک پر اپنے دستوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فلسطینی نے یتسھار بستی سے تعلق رکھنے والے یہودی آباد کار کے حملے کے بعد اس پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
