مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کے منصوبوں پر عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ تاریخی شہر الخلیل میں یہودی بستی ”کریات اربع” اور ”جفعات خاصینا” کے آباد کاروں نے ایک نئی سڑک کی کھدائی شروع کر دی ہے۔ یہ شاہراہ یہودی بستی اور اس کے سامنے میں موجود پہاڑ کے درمیان بنائی جائیگی۔ ماضی میں اس مقام پر ایک موجود ایک یہودی بستی کو ختم کر دیا گیا تھا۔
الخلیل کی تعمیراتی کمیٹی نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا یہودی آباد کاروں نے اس مہینے سے فلسطینی اراضی میں کھدائیاں شروع کر دی ہیں۔ متعدد مقامات سے زمین کو ہموار بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد کی یہودی بستی میں توسیع کرنا ہے۔ یہ اراضی فلسطینی شہریوں حسام ، ماجد ابو کرش جابر، ماجد جابر اور ساھر جابر کی ملکیت ہے۔ اراضی کے مالکان نے اسرائیلی پولیس کو اس ضمن میں شکایت درج کروائی ہے ۔ اس زمین کے ایک مالک حسام جابر نے قانونی حلقوں کو بتایا کہ یہودی آباد کاروں کی حالیہ کارروائی ان کی اراضی پر صریح قبضہ شمار ہو گی۔
یاد رہے کہ الخلیل میں بویرہ اور بقعہ کی یہ اراضی زرعی ہے ، یہودی آباد کار روزانہ کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔ انتہاء پسند یہودیوں کی ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج ان کی حفاظت کے لیے موجود رہتی ہے اورفلسطینیوںکو یہودی آباد کاروں سے الجھنے سے روکے رکھتی ہی۔ اب تک یہودی آباد کار یہاں پر کئی پانی کے تالاب اور کنووں کو برابر کر چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
