مغربی کنارے کے قدیم تاریخی شہر الخلیل میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر حملے آئے روز کا معمول ہیں۔ اسی طرح کے ایک واقعے میں یہودی آباد کاروں کے جتھے اور اسرائیلی فوجی اہلکاورں نے شہر کے مختلف گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔
مزاحمت کرنے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر اشک آور گیس کے شیل برسائے گئے۔ جھڑپوں کے دوران صہیونی آباد کاروں نے ایک فلسطینی کو بہیمانہ تشدد کرکے زخمی کردیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ نوجوان مروان فرحان کو جسم کے مختلف حصوں پر گہرے گھاؤ آئے ہیں۔ انہیں یہودی آباد کاروں کے سامنے مزاحمت کرنے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہودی آبادی ’’کریات اربع‘‘ کے قریب زخمی ہونے والے اس نوجوان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے الخلیل شہر کے علاقے ’’خلہ خاضور‘‘ پر دھاوا بولا اور متعدد گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، اہل خانہ سے گھنٹوں کی تفتیش کی جاتی رہی۔ صہیونی فوج کے اس حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ادھر شہر کے مختلف علاقوں، یطاخ بین عنا، دورا، ترقومیا وغیرہ میں بھی اسرائیلی فوج نے جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کرکے فلسطینی راہ گزروں کو روک کر ان سے تفتیش کی۔ اس موقع پر مختلف چیک پوسٹوں پر فلسطینی گاڑیوں کی لائن لگ گئی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

