اسرائیلی پولیس نے گذشتہ شب مقبوضہ بیت المقدس میں نامعلوم افراد کی جانب سے انتہا پسند یہودی ربی ’’یہودا گلیک‘‘ پر قاتلانہ حملے کے بعد مسجد اقصیٰ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لویا السمری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہودا گلیک پر فائرنگ کے واقعے کے بعد یہودی مشتعل ہیں اور وہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ ہم نے انہیں بھی الاقصیٰ کی طرف جانے سے روکا ہے اور فلسطینیوں کے لیے بھی مسجد میں داخلے پر غیرمعینہ مدت تک کے لیے پابندی لگا دی ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ یہودی ربی یہودا گلیک پر حملے کے بعد حرم قدسی کو ہر طرح کے زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرم قدسی کی بندش کا فیصلہ انٹیلی جنس اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا جن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ماحول میں فلسطینیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے۔ مسجد اقصیٰ تا اطلاع ثانی فلسطینی نمازیوں کے لیے بند رہے گی۔
خیال رہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے یہودا گلیک پر حملے کے رد عمل میں آج جمعرات کو مسجدا قصیٰ پر اجتماعی دھاوا بولنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر دوسری جانب بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج اور پولیس کے دستے پورے شہر میں سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یوں شہر میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔
درایں اثنا فلسطینی سماجی کارکنوں اور نوجوانوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسجد اقصیٰ میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے جس کے بعد بیت المقدس میں مزید کسی تصادم کا امکان بھی دیکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ پر دھاووں میں مشہور یہودا گلیک نامی انتہا پسند یہودی ربی کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ گلیک کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
