برطانوی لیبر پارٹی نے پاکستانی نژاد لارڈ نذیر احمد کی پارٹی رکنیٹ معطل کر دی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد جیل بھیجے جانے کے معاملے کو ‘یہودی سازش’ قرار دیا تھا۔
خطرناک ڈرائیونگ کی پاداش میں 12 ہفتوں کی جیل کاٹنے والے لارڈ نذیر احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں برطانوی عدالتوں کے ذریعے سزا دلوانے کے بیچھے ‘یہودی ملوث ہیں اور وہ اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے مالک ہیں۔’
انہوں نے مبینہ طور پر ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے انہیں سزا دی تھی، انہیں ایک یہودی ساتھی کی مدد کرنے کے بعد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے منتخب کیا تھا۔
پارٹی ترجمان کے مطابق، لیبر پارٹی کسی قسم کے یہودی مخالف جذبات کی مذمت کرتی ہے اور اس کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد لارڈ نذیر کو تحقیقات کے زیر التوا رہنے تک معطل کردیا گیا ہے۔
لارڈ نذیر نے ڈرائیونگ کے دوران 2007ء میں کرسمس کے دن ایک کھڑی گاڑی کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں ایک 28 سالہ سلوواکین شخص ہلاک ہوگیا تھا۔
انہیں اس سے قبل اپریل 2012ء میں ایک پاکستانی اخبار کی خبر کی بنیاد پر معطل کردیا گیا تھا جس کے مطابق نذیر احمد نے امریکی صدر باراک اوباما اور سابق امریکی صدر جارج بش کے سر کی قیمت 10 ملین پاؤنڈ رکھی تھی۔
تاہم انہوں نے خبر کی تردید کی تھی اور اخبار کی جانب سے وضاحت کے بعد انہیں اپنے عہدے پر بحال کردیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
