مقبوضہ بیت المقدس میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی جانب سے فلسطینیوں کی اراضی یہودیوں کو سستے داموں فروخت کرنے کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یہ اسکینڈل پہلی مرتبہ سامنے نہیں آ یا ہے
بلکہ اس سے قبل بھی عیسائی چرچ اس طرح کے کئی مشکوک اقدامات کرچکا ہے جس پر اسے فلسطینیوں کی طرف سے سخت تنقید بھی سامنے آ چکی ہے۔ اسرائیل کے عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق یہ تازہ اسکینڈل حال ہی میں سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یونانی عیسائی آرتھوڈوکس چرچ نے القدس میں جائیداد کی یہودیوں کو فروخت کا ایک بڑا سودا کیا ہے۔ چرچ نے ایک کروڑ ڈالرز کے عوض ڈیڑھ دونم اراضی اور اس میں تعمیر شدہ عمارات کو فروخت کیا ہے۔
اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عیسائی چرچ نے یہ معاہدہ ایک "ازوریم” نامی یہودی کمپنی کے توسط سے یہودی تاجر بنی نحامیا کے ساتھ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ چرچ ماضی میں بھی اسی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ذریعے فلسطینیوں کی اراضی خفیہ طورپر یہودیوں کو فروخت کرچکا ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہےکہ عیسائی یونانی چرچ نے مغربی بیت المقدس میں یہ اراضی شاہ داؤد شاہراہ پر ایک ہوٹل کی تعمیر کے لیے فروخت کی ہے جس میں "شاہ داود ہوٹل” کے نام سے ایک ریستوران تعمیر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسی علاقے میں یہ چرچ پہلے بھی اراضی اورتعمیر شدہ مکانات فروخت کرچکا ہے۔ گذشتہ ڈیلنگ میں چرچ نے 88رہائشی فلیٹس کو سات ملین ڈالرز کے عوض یہودیوں کو فروخت کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

