یورپی یونین نے فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں فوری ختم کرنے اور شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یورپی یونین کی وزیرخارجہ کیتھرین نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا۔اپنے دورے کے دوران انہوں نے محصور شہر کی تعمیرنو، بحالی اور شہریوں کی امداد کےلیے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے پناہ گزین”اونروا” کی وساطت سے 55 ملین یورو کی امداد کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔
غزہ کے دورے کے دوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیتھرین آشٹون کا کہنا تھا کہ میں نےاسرائیلی حکام کے ساتھ جہاں اور جب بھی ملاقات کی غزہ کی معاشی ناکہ بندی کےخاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ میں آج ایک مرتبہ پھر محصور شہر پرعائد پابندیاں اٹھانے ، شہریوں کو آزادانہ تجارتی مواقع فراہم کرنے، تمام بیرونی راستے کھولنے اور شہریوں کو اپنا مستقبل سنوارنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ "یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی”اونروا” کےدرمیان غزہ کی تعمیرنو کے لیے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یورپی یونین اونروا کوغزہ کی تعمیر نو کے لیے پچپین ملین یورو کی گرانٹ دے گا”۔
اس موقع پر یورپی یونین کی خاتون عہدیدار نے فلسطینیوں کی امداد اور تعمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کا ان کا گذشتہ چار سال میں تیسرا دورہ ہے۔ اپنے ان تمام دوروں کےدوران انہوں نے شہریوں کی مشکلات کو قریب سے دیکھا ہے۔غزہ میں غربت اور بے روزگاری عام ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قلت نے شہریوں کی مشکلات کو مزید دوچند کر دیا ہے۔ اسرائیل نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی پرعائد اقتصادی پابندیاں ختم کر دے گا لیکن اسرائیل نے پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔
آشٹون کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں بحالی اور تعمیرنو کے لیے سرگرم اونروا کے کل بجٹ کا دس فی صد یورپی یونین فراہم کرے گی۔

