مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کے روز برسلز میں یورپی یونین کے ایک اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی، تجارتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کےایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
یورپی یونین کے فیصلے کے رد عمل میں دنیا بھرمیں موجود انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں نے فیصلے کو فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کا ‘‘سرٹیفکیٹ’’ قرار دیا۔
مرکز برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے ماضی میں بھی صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر ناانصافی اور ظلم کا ساتھ دیا اور اب اس تعاون کو مزید کئی دوسرے شعبوں تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ‘‘ای یو’’ صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات میں اضافے کے اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کرے۔ یورپی یونین کی جانب سے ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کا اعلان جب وہ فلسطین میں انتہا پسندی اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہو رہا ہے قابل قبول نہیں ہے۔
بیان میں استفسار کیا گیا ہےکہ آیا یورپی یونین کو یہ معلوم نہیں کہ اسرائیل وہ ملک ہے جس نے فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر جاری ہے، فلسطینیوں پر کئی لاکھ فوج مسلط کرکے ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے اور عملا مسئلے کے دو ریاستی حل کو ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت اور اس کی فوج کے ریاستی جراہم کا اعتراف بھی کیا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعاون کا فروغ ناقابل فہم ہے۔
