برطانیہ میں عرب آرگنائزیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی فلسطینی اتھارٹی کے لئے حمایت اس کے مظالم کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔
پیر کے روز جاری کئے جانے والے ایک بیان میں ادارے نے یورپی یونین سے فلسطین میں ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی حکام کی جانب سے کی جانے والی مختلف خلاف ورزیوں کی تفتیش کرے اور وہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی حمایت کے یورپی کردار کو فلسطینی عوام کے مفاد میں بدل دے۔
ادارے نے فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں ان خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پر ان خلاف ورزیوں کی کچھ ذاتی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
اس بیان میں اقوام متحدہ، عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز سے ایک تفتیشی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی کی خلاف ورزیوں سے نمٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی ان کاروائیوں سے فلسطینی عوام کے حقوق پر آنچ آتی ہے۔
اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ ادارے نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوج کے درمیان تعاون کے نتیجے میں تشدد اور حراستوں میں اضافے کے اعدادوشمار پر مبنی ایک رپورٹ یورپی ممبران پارلیمان کو پیش کی تھی۔
اس رپورٹ کے بعد ممبر پارلیمان فل بینن نے 30 مئی کو یونین برائے خارجہ معاملات کی اعلیٰ عہدیدار کیتھرین ایشٹن سے فلسطینی علاقوں میں تشدد کے بارے میں سوالات کئے۔
بیان میں بتایا گیا کہ ایشٹن نے کہا ہے کہ کسی سیکیورٹی سروسز خاص طور پر جنرل انٹیلی جنس سروس کو کوئی یورپی امداد نہیں مل رہی ہے۔
یونین کے خارجہ معاملات کی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ فلسطینی عہدیداروں نے ایک ملاقات کی جائیگی جس میں ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے بارے میں فیصلہ کن کاروائی کی جائے گی۔
ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یورپی یونین نے نابلس، جنین اور اریحا میں جیلوں کی تعمیر کے لئے لاکھوں ڈالر فراہم کئے ہیں جن میں انٹیلی جنس اور پریونٹیو سیکیورٹی سروس اسیران پر تشدد کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلطسطین
