مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سلامت کونسل میں 17 دسمبر کو فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر آج بدھ کو رائے شماری ہوئی۔ رائے شماری میں آٹھ ممالک اردن، فرانس، روس، ارجنٹائن، چاڈ، چیلی اور لکسمبرگ نے فلسطینی اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی۔ پانچ ممالک برطانیہ، لیتوانیا، نائیجیریا،، کوریا اور روانڈا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ امریکا ،اسرائیل اور آسٹریلیا نے قرارداد کی مخالفت کی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں مشرق وسطی میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل، اسرائیل کی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کی غیر مشروط رہائی جیسے اہم مطالبات پیش کیے گئے تھے۔ قرارداد میں فلسطینیوں کے حق واپسی کا پرزور مطالبہ نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں تجویز دی گئی تھی کہ فریقین قرارداد کی منظوری کے بعد بارہ کے اندر اندر امن بات چیت کا سلسلہ شروع کریں گے جبکہ دو سال کے ٹائم فریم کے مطابق اسرائیل سنہ 1967 ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی شہروں سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر یہ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دے گا۔ کوئی تیسرا فریق ان تمام مراحل کی نگرانی کرے گا۔
امریکا نے اس قرارداد کے پیش کیے جانے کے فوری بعد ہی اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے حسب سابق قرارداد کو اسرائیل کے حق میں ویٹو کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ قرارداد میں اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیل نے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد کو مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے موقف میں بتایا گیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن بات چیت کی ناکامی کے بعد فلسطینیوں کی یہ دوسری بڑی ناکامی ہوگی کہ وہ یک طرفہ طورپر فلسطینی ریاست کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔
یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے مزید عالمی حمایت کے حصول پر زور دیا ہے تاہم امریکا موقف تھا کہ اس قرارداد پر اسرائیل میں آئندہ سال مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد تک رائے شماری موخر کر دی جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
