مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی میونسپل کونسل کی یکطرفہ انتظامی حد بندی فنی نزاکتوں کے بجائے سیاسی مقاصد کو سامنے رکھ کر گئی ہے۔
اس امر کا اظہار اپلائیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یروشلم [ARIJ] نے اپنی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حد بندیوں کے ذریعے مقدس شہر میں یہودیوں کے آبادیاتی غلبے کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ نئی تجویز کردہ اسرائیلی حد بندی میں شمالی یروشلم میں مقیم فلسطینی آبادی شامل نہیں کی گئی۔نیز جنوبی شہروں بیت لحم، بیت جالا اور بیت ساحور میں کم آبادی والے علاقوں کو صہیونی ریاست میں بھی ضم کر لیا گیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی میں دیوار فاصل کی مزید توسیع اور متعدد یہودی بستیوں اور سرحدی کراسنگز کو دیوار فاصل کے اندر محفوظ کرنا دراصل گریٹر یروشلم منصوبے کا حصہ ہے۔” اریج نے رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ مقدس شہر میں یہودی بستیوں میں توسیع کے اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے اقدام کیا جائے۔ ان اقدامات میں فلسطینیوں کی مالی امداد بھی شامل ہے تا کہ وہ شہر کے قلب اور اردگرد نئے گھر خرید سکیں۔
