خیال رہے کہ منحرف فتحاوی لیڈر محمد دحلان اور محمود عباس کے درمیان پچھلے طویل عرصے سے سخت اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ دونوں گروپ خود کو بانی جماعت یاسرعرفات مرحوم کا سیاسی جانشین اور وارث قرار دینے کے دعوے دار ہیں۔ حال ہی میں یاسرعرفات کی دسویں برسی کی تقریب کا اعلان کیا گیا تھا جس کے لیے غزہ کی پٹی میں ایک بڑے جلسے کی تیاریاں بھی کی گئی تاہم بعد ازاں یہ جلسہ منسوخ کر دیا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے فتحاوی لیڈر محمد دحلان نے اپنے ایک بیان میں یاسرعرفات کی برسی کی تقریب منسوخ ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے کھیل کے پس پردہ ان کے حریف صدر محمود عباس کا ہاتھ ہے۔ غزہ کی پٹی میں انہیں کسی قسم کی عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ وہ عوام کے سامنے سبکی اور شرمندگی سے بچنے کے لیے فتح کی قیادت کو کسی قسم کا جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں یاسرعرفات کی برسی کا جلسہ محمودعباس نے منسوخ کرایا اور اب وہ اس کے نتائج کے بھی ذمہ دارہوں گے۔
محمد دحلان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال بھی ہم نے غزہ کی پٹی میں یاسرعرفات کی برسی کا ایک کامیاب جلسہ کیا جس میں عوام کا ایک جم غفیر امڈ آیا تھا، لیکن اب کی بار صدر عباس کو ہمارے جلسے سے خطرات محسوس ہو رہے تھے اور انہیں اندازہ تھا کہ ہم پچھلےبرس سے کہیں زیادہ بڑا جلسہ کرکے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ جلسہ نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر عباس اور ان کا ٹولہ چاہے جتنا بھی زور لگا لے اب ان کی عوام میں کوئی وقعت اور پذیرائی نہیںرہی ہے۔ وہ صرف اپنی کرسی اورا قتدار بچانے کی فکرمیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جلسے کے لیے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ دراصل محمود عباس گروپ کو ہماری بڑھتی عوامی مقبولیت سے خوف لاحق ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
