فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت کی مقبوضہ علاقوں میں واپسی دراصل "حق واپسی” کے برحق ہونے کی دلیل ہے۔ ہم اپنی سرزمین پر قابض طاقتوں کو "حق واپسی” پر اصرار کے ذریعے چیلنج کرتے رہیں گے اور اس حق سے کسی طور پر دستبردار نہیں ہوں گے۔
اس بنیادی حق پر اصرار اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی قوم ایک باوقار اور زندہ قوم ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے پولٹ بیورو کے رکن اور بیرون فلسطین تنظیم کے نمائندے ماہر الطاہر سے ملاقات میں کیا۔ انہوں نے ماہر الطاہر کی غزہ واپسی پر انہیں مبارکباد دی۔ اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ انکی غزہ آمد اہم پیش رفت ہے اور فلسطینی قیادت کی پہلی واپسی ہے، جس کی ہم دل وجان سے قدر کرتے ہیں
فلسطینی حکومت کے سربراہ نے کہا کہ "حق واپسی” اور قومی وحدت کی بحالی فلسطینی عوامی مزاحمت کے ناقابل تنسیخ مسلمہ اصول ہیں۔ انہی پر چل پر ہم اپنے غصب شدہ حقوق واپس لے سکتے ہیں اور انہی پر کاربند رہتے ہوئے ہم آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں، ایسی فلسطینی ریاست کہ جس کا صدر مقام بیت المقدس ہو۔
اسماعیل ھنیہ نے فلسطین کے اندر اور باہر مقیم فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر الطاہر کی غزہ واپسی آزادی کی جدوجہد کا اہم سنگ میل ہے۔ اس سے مزاحمت اور ثابت قدمی کا پرچم مزید بلند ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں عرب دنیا میں آنے والی جمہوری بہار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسماعیل ھنیہ نے حال ہی میں اپنے عرب ملکوں کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کے دلوں میں فلسطینیوں کے لئے محبت کےلازوال خزانے ہیں، انہیں اپنے حق میں استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں کیونکہ تقسیم ہو کر ہم عرب اور اسلامی دنیا کی اس محبت کو اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتے۔
ماہر الطاہر نے فلسطینی وزیر اعظم کی جانب سے پیپلز فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے وفد کے خیر مقدم پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم اندرون اور بیرون ملک متحد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسئلوں کے حل کی خاطر اسرائیل سےرابطے بے فائدہ ہیں، انہوں نے صہیونی حکومت سے مذاکرات کی پالیسی کو ہمیشہ کے لئےخیرباد کہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

