اسرائیلی جیل حکام نے الخلیل کے علاقے دورا سے تعلق رکھنے والے اسیر منصور الشیحاتیت کو طبیعت کی ناسازی کے باعث رامون جیل کی ایک کوٹھڑی سے نکال کر سروکا جیل منتقل کردیا۔
سنٹر برائے مطالعہ فلسطینی اسیران نے کہا ہے کہ وہ اسیر منصور کی صحت کی خرابی کا پورا پورا ذمہ دار اسرائیلی حکام کو قرار دیتے ہیں کیوںکہ انہوں نے ان کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کی۔
سنٹر کے میڈیا ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے کہا ہے کہ اسیر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کی ایک ٹانگ بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ قید تنہائی میں زیادہ عرصہ گزارنے کی وجہ سے ان کو سانس لینےمیں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جیل انتظامیہ نے دیگر اسیران کے احتجاج کے بعد اسیر شحاتیت کو ہسپتال منتقل کرنے پر رضامندی دکھائی تھی۔ ہسپتال منتقلی کے دوران ان پر اسرائیلی فوج نے بے رحمانہ انداز میں تشدد کیا جسکی وجہ سے ان کا خون بہنا شروع ہوگیا اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
اشقر نے کہا ہے کہ منصور الشحاتیت کو اسرائیلی جیلوں میں جان بوجھ کر طبی امداد سے دور رکھا گیا ہے جس کی وجہ سےان سست رفتار موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
اسیر شحاتیت کو مارچ 11 2003 کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں تفتیش کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
