رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’’کلب برائے اسیران‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہڈیو کے سرطان کے شکار فلسطینی قیدی بسام السائح کو ‘‘مجد‘‘ جیل سے ’’الرملہ‘‘ اسپتال لے جایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مریض کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسے اسٹریچر پر اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں اس کے ساتھ اس کی دیکھ بحال کے لیے کچھ قیدی ساتھی بھی آئے ہیں۔
خیال رہے کہ بسام السایح کا آبائی تعلق مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے ہے۔ صہیونی فوجیوں نے السایح کو اٹھ اکتوبر 2015 ء کو حراست میں لیا تھا۔ 43 سالہ بسام امین السایح گرفتاری کے وقت بھی کینسر کے مرض کا شکار تھا۔ جیل منتقل کئے جانے کے بعد اس کی حالت مزید بگڑ گئی تھی مگر اس دوران اسے جیل میں کسی قسم کی طبی امداد مہیا نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں آج وہ زندگی ور موت کی کشمکش میں ہے۔
