فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں کاشت کاری میں مصروف فلسطینی شہریوں پر انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے حملہ کر کے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کو یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی شہریوں پر اس وقت تشدد کیا جب وہ مشرقی رام اللہ میں اپنے کھیتوں میں کام کاج میں مصروف تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہودی غنڈہ گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے بعض شہریوں کو رام اللہ کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تشدد کے نتیجے میں دو فلسطینیوں کے بازو ٹوٹ گئے ہیں جبکہ کئی دوسرے شہریوں کو سر اور جسم کے بالائی حصوں پر گہری چوٹیں آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی کسانوں عبدالقادر حسین اور سلیمان سالم کو مشرقی رام اللہ میں جریری قصبے میں کھیتوں میں کام کرنے سے روکا۔ انہوں نے یہودی دہشت گردوں کے دباؤ میں آ کر کام روکنے سے انکار کردیا جس پر انہوں نے ڈنڈوں، لاتوں اور مکوں سے انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کی مدد کو پہنچنے والے دوسرے فلسطینیوں پر بھی یہودی آباد کاروں نے تشدد کیا۔
ادھر الخلیل میں فلسطینی شہریوں کی کاٹی گئی گندم کی فصل پر صہیونی فوج نے ٹینک اور بھاری بلڈوزر چڑھا کر ان کے سال بھر کی محنت برباد کر کے رکھ دی۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق فلسطینی شہریوں نے جنوبی الخلیل میں یطاء کے مقام پر گندم کی فصل کاٹنے کے بعد اس کی صفائی کا عمل شروع کیا تھا کہ اچانک اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ قابض فوج کے ٹینک فلسطینیوں کی جمع کی گئی گندم اور دیگر فصلات کے اوپر سے گذرتے اور اسے تباہ کرتے رہے۔
