فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کا خلیجی ملک کویت کا دورہ جاری ہے۔ جمعرات کے روز کویت میں موجود فلسطینی برادری نے فلسطینی وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کی حکومت اور حماس قومی اصولوں کی مکمل پاسداری کرے گی اور اس سلسلے میں کسی بیرونی دباؤ کا شکار نہیں ہو گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم نے کویت میں جمع ہزاروں فلسطینیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کویتی حکومت اورعوام کو ان کے قومی دن کی بھی مبارک باد دی۔ انہوں نےکویت اور فلسطین دونوں قوموں کے درمیان بے مثل دوستی کے اس پودے کوتا ابد تروتازہ رکھنے اور اسے مزید پھلنے پھولنے کی بھی دعا کی۔ اسماعیل ھنیہ نے کویت میں ماضی میں آنے والے مشکل حالات اور جنگوں کے دوران مارے جانے والے شہریوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور انہیں کویت کی آزادی کےشہداء قرار دیا۔
فلسطینی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کویت میں موجود فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اپنے محصور بھائیوں کی مدد جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک میدان فلسطینی عوام کا ہے اور دوسرا فلسطینی حکومت اور سیاسی جماعتوں کا ہے۔ سیاسی جماعتیں اورحکومتیں اپنا فرض پورا کر رہی ہیں عوامی حلقوں کو اپنی قومی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے۔
اسماعیل ھنیہ کہہ رہے کہ ان کی حکومت اور غزہ کی پٹی میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” قومی اصولوں اور بنیادی حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کرے گی۔
انہوں نے تقریرمیں غزہ کی پٹی کی معاشی پابندیوں کے باعث تشویشناک صورت حال، اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی، بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنےکی صہیونی سازشوں اور مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی آباد کاری کی توسیع سمیت ملک کی موجودہ صورتحال سے اگاہ کیا۔
فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ عرب انقلابات کے باعث فلسطینیوں کو بھی اپنے حقوق اور جائزمطالبات کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ فلسطینی عوام چاہے وہ جس ملک میں ہیں اور جس طرح کے پیشے سے وابستہ ہیں انہیں عرب بہاریہ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
کویت میں موجود فلسطینی کمیونٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے فلسطینی وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ غزہ کی پٹی میں محصورشہریوں کی مدداور ہر سطح پر تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

