خیال رہے کہ یاسر طروہ نے گذشتہ روز بیت المقدس میں باب العامود کے مقام پر ایک اسرائیلی فوجی افسر پرچاقو سے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجےمیں وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس موقع پر ایک صہیونی فوجی نے حملہ آور فلسطینی کو گولی ماردی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہوا۔ بعد ازاں اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم”ضمیر” کے مندوب محمد محمود کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں قائم اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے یاسر طروہ کی حراست میں مزید توسیع کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے ملزم کی عدم موجودگی میں اس کی حراست میں دو ہفتوں کا اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس نے بھی عدالت سے کہا تھا کہ وہ ملزم کے صحت یاب ہونے تک اسے فوج کی تحویل میں اسپتال میں زیرعلاج رکھنے کی اجازت فراہم کرے۔ عدالت نے جولائی کے اوائل تک اسے پولیس اور فوج کی حراست میں زیرعلاج رکھنے کی اجازت دے دی۔
ذرائع کے مطابق یاسر طروہ کو اس وقت بیت المقدس میں ھداسا عین کارم منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کےبارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ زندہ ہے یاس جام شہات نوش کرچکا ہے کیونکہ جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو اس کے بعد ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا ہے تاہم بعد ازاں اس خبر کی تردید کی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
