فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اعلان کے باوجود جمعرات کے روز قومی حکومت کی تشکیل کا اعلان نہیں کیا جاسکا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابوزھری کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعلان میں تاخیر کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ریاض مالکی کو وزارت خارجہ کا قلم دان سونپے جانے پر اختلافات ہیں۔ حماس ریاض مالکی کو یہ عہدہ دینے کی حامی نہیں ہے۔ دوسرا اہم سبب وزارت امور اسیران کو بالکل ختم کرنے کی تجویز ہے۔ صدر عباس کی جانب سے وزارت اسیران کو ختم کرکے اسے ایک خود مختار ادارہ بنانے کی تجویز دی ہے جبکہ حماس کا موقف ہے کہ وزارت اسیران کے خاتمےسے اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کی رہائی کے لیے جاری مساعی بری طرح متاثر ہوں گی۔ اس مقصد کے لیے وزارت اسیران کا قائم رہنا ناگزیر ہے۔
غزہ کی پٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس اور الفتح کے درمیان قومی حکومت کی تشکیل کی راہ میں موجود اختلافات دور کرنے کے لیے صلاح مشورہ جاری ہے۔ پیش آئند چند ایام میں اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کرلیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
