اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ملحقہ علاقے وادی اردن میں فوج کی مسلسل جنگی مشقوں کے باعث مقامی فلسطینی آبادی کی زندگی جہنم بنا کر رکھ دی ہے۔
مقامی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اسرائیلی فوجی انہیں اپنے کھیتوں میں کام کرنے سے روکنے کے بعد اب انہیں گھروں سے بھی نکال باہر کر رہے ہیں۔ ان کے کھیت اور فصلیں تباہ کردی گئی ہیں اور پانی کے تمام کنوؤں کو ناقابل استعمال بنا دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وادی اردن کے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے اسرائیلی فوجیوں نے علاقے میں جنگی مشقیں روز کامعمول بنا رکھی ہیں۔ اسرائیلی فوجی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے وادی اردن کے پہاڑی علاقوں ، ٹیلوں اورمیدانوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور وہاں پرکاشت کاری کرنے والے فلسطینیوں کونکال باہر کیا جاتا ہے۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے ان کے پانی کے کنوؤں پر بھی قبضہ جما رکھا ہے، جس کے باعث وہ نہ صرف اپنے مویشیوں کو پانی پلانےسے قاصر نہیں بلکہ ان کے کھیت اور زرعی زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔
وادی اردن کے مرکزی علاقے "عین شلبی” کے ضلعی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے سے اسرائیلی فوج کی کوئی 70 گاڑیاں ٹینک اور دیگر جنگی آلات علاقے میں لائے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کی دن رات جاری مشقوں میں فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے کی نگرانی کی جاتی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنے کھیتوں میں کام کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

