فلسطینی خاتون نورا الجعبری کو صہیونی قید خانے میں جس کام کی فکر سب سے ستاتی تھی وہ اپنے بیٹے حمزہ کا دیدار تھا۔ نورا الجعبری کے شوہر محمد ابو وردہ بھی صہیونی حراست میں ہیں، القسام بریگیڈ کے کمانڈر کو سینتالیس
مرتبہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ساڑھے تین ماہ کی بے تابی کے بعد آخر وہ دن بھی آہی گیا جب فلسطینی اسیرہ نورا الجعبری کو رہائی مل گیا اور وہ زندہ افراد کے لیے تیاری کی گئی اسرائیلی قبر اور اس میں دیے جانے والے صہیونی عذاب سے نجات پا کر سروخرو ہوگئی۔
فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے بنائی گئی ریاست نے مردوں کے ساتھ ساتھ پھول جیسے بچوں اور صنف نازک کے خلاف جرائم کی بھی ایک بھیانک داستان رقم کی ہے۔ نورا الجعبری بھی اسی داستان کا ایک معمولی حصہ تھیں جنہیں تفتیش کے نام پر بے پناہ سختیوں اور قید و بند سے گزارا جا چکا ہے۔
قیدی خواتین
نورا الجعبری کو تو ساڑھے تین ماہ بعد اسرائیلی مظالم سے رہائی مل گئی مگر اب بھی گیارہ فلسطینی خواتین تاریخ انسانی کے نام پر دھبہ بنی ان صہیونی کال کوٹھریوں میں سسک رہی ہیں۔ ان خواتین میں اسیرہ خواتین کی عظیم رہنما لینا الجربونی بھی شامل ہیں۔ سن 1948ء میں قبضہ کیے گئے فلسطین کے علاقے عرابہ سے تعلق رکھنے والی الجربونی کو سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
نورا الجعبری نے بتایا کہ اسرائیلی قید میں ان کا سب سے بڑا غم اپنے بیٹے حمزہ سے جدائی تھی، خاص طور پر جب میرے شوہر پہلے سے ہی اسرائیلی جیل میں ہیں، حمزہ کے اکیلے ہونے کا دکھ میرے لیے انتہائی خوفناک تھا۔ میں اس سارے عرصے میں اللہ سے دل میں اطمینان ڈالنے کی دعا کرتی رہی۔
اسیری کے ان تمام ایام میرا صرف ایک مشغلہ تھا اور وہ والد اور والدہ کے بغیر رہنے والے ننھے حمزہ کو یاد کرنا۔ اس کی یاد میرے دکھوں کو مزید زیادہ کردیتی تھی تاہم جب کبھی میرے دکھوں میں اضافہ ہوتا تو میں اللہ دعا مانگتی اور اللہ کی ذات مجھے صہیونی اذیتیں برداشت کرنے کی ہمت عطا کردیتے تھے۔
صہیونی جیل انتظامیہ کے کڑے ضوابط اور بے شمار سختیوں سے نجات پانے والی الجعبری نے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی اسیرات کی ناگفتہ بہ حالات سے بھی پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح مریض اسیرات کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے۔ اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں گرفتار کی گئی ان اسیرات کو جرائم پیشہ خواتین کے ساتھ رکھ کر ان کی اذیتوں کو بڑھانے کا سامان کیا جاتا ہے۔ جرائم پیشہ صہیونی خواتین جان بوجھ کر فلسطینی اسیرات کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیتیں۔
مزاحمت میں ہی نجات
اسرائیلی کال کوٹھریوں میں قید و بند کی صعوبتیں کاٹنے والے فلسطینی مردوخواتین کی آزادی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ صہیونی عقوبت خانوں میں بے مثال ثابت قدمی دکھانے والے ان فلسطینی اسیران کی رہائی کا وعدہ مزاحمت میں ہی مضمر ہے۔ فلسطینی قوم کو جیلوں کی سلاخوں کو توڑنے کی جو واحد سبیل نظر آتی ہے وہ غاصب اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت ہے۔
الخلیل کے اذنا ٹاؤن سے تعلق رکھنے والی دس سال قید کی سزا پانے والی فلسطینی اسیرہ اسماء بطران نے خاندان نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو بتایا کہ اسماء بطران کی عمر ابھی چوبیس سال سے متجاوز نہیں مگر اس کم عمری میں ہی ان کی اس بیٹی کو دو مرتبہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اسرائیلی اہلکاروں نے اسے انتہائی وحشیانہ انداز میں گھر سے اٹھایا تھا۔
خیال رہے کہ نورا الجعبری کی رہائی کے بعد اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں گیارہ خواتین ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ سال حماس اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت 53 فلسطینی خواتین کو رہائی نصب ہوئی تھی۔ دسمبر 2008 اور جنوری 2009 کو غزہ پر مسلط کی گئی ’’جنگ فرقان‘‘ کے بعد اسیران کی رہائی کا یہ پہلا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت فلسطینی مزاحمت کاروں کے زیر حراست اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے 1027 فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
