اسرائیل کے فوجی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فوجی اہلکارنے فلسطینی نوجوان پر فائرنگ رام اللہ کے قریب قلندیا چیک پوسٹ سے کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلسطینی نے مشکوک حالت میں یہودی آباد کاروں کی ایک کار کی طرف رخ کرتے ہوئے نعرہ تکبیر لگا دیا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہری کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں اور اسے علاج کے لیے بیت المقدس کے "تشعار تصدیق” استپال منتقل کردیا گیا ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
قبل ازیں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ قلندیا چیک پوسٹ پرایک مسلح فلسطینی اور فوجیوں کےدرمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس میں فلسطینی حملہ آور زخمی ہوگیا ہے تاہم اسرائیلی ریڈیو نے تبایا ہے کہ زخمی ہونےوالا فلسطینی غیر مسلح تھا۔
البتہ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قلندیہ چیک پوسٹ پرزخمی ہونے والے فلسطینی کے پاس اسلحہ تھا اور اس نے چیک پوسٹ پرفائرنگ بھی کی تھی۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ رام اللہ میں دو روز قبل ہونے والے اسی طرح کی ایک دوسرے واقعے کے بعد پیش آیا ہے۔ رام اللہ اور نابلس کے درمیان سوموار کے روز نامعلوم فلسطینی بندوق برداروں نے فائرنگ کرکے چار یہودی آباد کار زخمی کردیے تھے۔ زخمیوں میں سے ایک گذشتہ روز اسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے رام اللہ میں پیش آئے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں مزید بھی جاری رکھی جائیں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
