خیال رہے کہ الشیخ راید صلاح پر نسل پرستی پر اکسانے کا یہ الزام پچھلے کئی سال سے چل رہا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کی ایک عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کردیا تھا لیکن صہیونی استغاثہ نے بریت کا فیصلہ ایک ایک دوسری عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔ اس کے جواب میں الشیخ صلاح کے وکلاء نے بھی جوابی اپیل دائر کی تھی جس میں الشیخ راید صلاح کی بریت کے فیصلے کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سوموار کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الشیخ راید صلاح کے وکیل زاھی نجیدات نے بتایا کہ ان کے موکل پر پہلے تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور تازہ فیصلے میں ان پر نسل پرستی پر اکسانے کا بھی الزام شامل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی عدالت نے شواہد اور فیصلے کے تمام تقاضے پورے کرنے قبل ہی ان کے موکل پر فرد جرم عاید کرکے خود کو مزید متنازعہ بنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے آنے کے بعد امکان ہے کہ جلد ہی الشیخ رائد صلاح کو قید کی سزا بھی سنا دی جائے۔
ادھر الشیخ رائد صلاح نے ایک بیان میں اسرائیلی عدالت کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور یک طرفہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرد جرم کی سزا کا مقصد فلسطینی شہریوں کو دفاع قبلہ اول کے لیے گھروں سے نکلنے سے روکنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نسل پرستی پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے وہ بار بار کرتا رہوں گا۔ میں نے فلسطینیوں کے بیت المقدس پر حق کی بات کی تھی۔ آج بھی وہی بات کرتا ہوں کہ فلسطین کے تمام شہروں سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کا بیت المقدس پر یکساں حق ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
