خیال رہے کہ جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد صہیونی فوج کی بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر نمازیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مسجد کی بے حرمتی کی تھی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج کی اس ناپاک اور ظالمانہ حرکت پر اردنی حکومت کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اردنی وزیراطلاعات اور حکومت کے ترجمان ڈاکٹر محمد المومنی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ناپاک یہودی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ اور باب المغاربہ کے راستے مقدس مقام میں گھس کر نہ صرف نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مسجد کی بے حرمتی کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اردن اسرائیلی فوج کی اس وحشیانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور آئندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ڈاکٹر المومنی کا کہنا کے نمازیوں پرمسجد کے اندر گولیاں چلانا، آنسو گیس کی شیلنگ کرنا اور نہتے عبادت گزاروں کو پکڑ کر مسجد کے صحنوں میں گھسیٹنا انسانیت اور تہذیب سےعاری لوگوں کی عادت ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی نمازیوں کو وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنا کر انتہائی درندگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالم اسلام یہودیوں کی اس غنڈہ گردی اور سفاکیت پر خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔
اردنی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک مسجد اقصیٰ کے خلاف ہونے والی صہیونی سازشوں سمیت فلسطین بھر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مذہبی آزادیوں پر لگائی جانے والی قدغنوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اسرائیلی فوج اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے شہریوں کو عبادت سے روکنے کی گھناؤنی سازشوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
